ایس ایچ کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ایس ایچ او کو ’بخدمت جناب‘ لکھنا ممنوع قرار 🚫

اسلام آباد (مظفر علی بٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس کلچر میں بڑی اصلاح کرتے ہوئے ایس ایچ او کو درخواستوں اور دستاویزات میں ’’بخدمت جناب‘‘ لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جس میں جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کی نشاندہی پر اہم قانونی اور سماجی نکات واضح کیے گئے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح ضروری ہے اور ریاستی رویے میں بنیادی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عدالت کے مطابق اب درخواستوں میں صرف ’’جناب ایس ایچ او‘‘ لکھا جائے گا، غلامانہ طرزِ تخاطب کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی آر کے حوالے سے بھی اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی آر درج کرانے والا شہری ’’اطلاع دہندہ‘‘ کہلائے گا، ’’شکایت کنندہ‘‘ نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمپلیننٹ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہوگی۔

عدالت نے پولیس کارروائی میں ’’فریادی‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، کیونکہ یہ لفظ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری اپنے قانونی حق کا مطالبہ کرتا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول ہوگی۔ سپریم کورٹ نے پولیس افسران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی آر میں تاخیر پر پاکستان پینل کوڈ (PPC) 201 کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے، کیونکہ تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں