سرکاری ہاؤسنگ اداروں کی ناکامیاں

دہائیوں پر محیط رہائشی المیہ

سی ڈی اے، آر ڈی اے اور سرکاری ہاؤسنگ اداروں کی ناکامیاں، ہزاروں شہری بے گھر

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: رہائشی پلاٹس کی مکمل ادائیگی کے تقریباً چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہزاروں شہری آج بھی چھت سے محروم ہیں۔ سرکاری ہاؤسنگ اداروں میں مسلسل بدانتظامی، فیصلہ سازی میں ناکامی اور ادارہ جاتی مفلوجی نے شہریوں کو ایک نہ ختم ہونے والے انتظار میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اس قومی ناکامی کی سب سے نمایاں مثال سیکٹر E-12 ہے، جہاں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے 1989 میں پلاٹس الاٹ کیے، مگر 2026 تک بھی الاٹیوں کو قبضہ نہیں دیا جا سکا۔
جو قبضہ ایک سال میں (1990 تک) ملنا تھا، وہ 36 سالہ اذیت میں بدل چکا ہے—خالی وعدے، نمائشی ترقی، اور کسی بھی سطح پر جوابدہی کا مکمل فقدان۔
E-12: 36 سالہ ٹوٹے وعدوں کی داستان
سیکٹر E-12 کے الاٹی اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ایسے پلاٹس میں پھنسے دیکھ رہے ہیں جو آج بھی صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔
منصوبہ بند ترقی کے بجائے الاٹیوں نے صرف ادھوری سڑکیں، وقتی مشینری کی آمد، اور ہر دور کی نئی بیوروکریٹک توجیہات دیکھیں، جبکہ حکومتیں اور سی ڈی اے انتظامیہ مسئلہ ایک دوسرے پر ڈالتی رہیں۔
“میری اہلیہ کو 1989 میں ہماری شادی کے وقت پلاٹ الاٹ ہوا تھا۔ آج میں ریٹائر ہو چکا ہوں، مگر E-12 میں گھر بنانے کی کوئی امید نہیں”،
ایک الاٹی نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔
وفاقی کابینہ کی ہدایات، اندرونی اجلاسوں اور میڈیا بیانات کے باوجود زمینی حقیقت وہی ہے:
نہ قبضہ، نہ سہولیات، نہ عزت۔
’پہلے متاثرین، بعد میں ترقی‘ — ایک مستقل بہانہ
سی ڈی اے حکام ہر بار تاخیر کی وجہ زمین متاثرین کے معاوضے کو قرار دیتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ جب تک متاثرین کو ادائیگی یا متبادل پلاٹس (خصوصاً سیکٹر I-12 میں) نہیں دیے جاتے، ترقی ممکن نہیں۔
مگر ناقدین کے مطابق:
متاثرین کے مسائل اسکیم لانچ کرنے سے پہلے حل ہونے چاہیے تھے
زمین کلیئر کیے بغیر الاٹیوں سے رقم وصول کی گئی
ذمہ دار افسران کے لیے کبھی کوئی لازمی ٹائم لائن مقرر نہیں کی گئی
سی ڈی اے ترجمان کا یہ بیان کہ “E-12 حل کے لیے تیار ہے” اب ایک غیر معتبر رسمی جملہ بن چکا ہے۔
یہ ایک اسکیم نہیں، ایک پورا نظام ناکام ہے
سیکٹر E-12 صرف ایک مثال ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی متعدد سرکاری ہاؤسنگ اسکیمیں اسی المیے کی عکاس ہیں—رقم وصول، وعدے، مگر عمل ندارد۔
وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA)
گرین اینکلیو-I (بھارہ کہو)
آغاز: 2009
الاٹی: 3,282
15 سال بعد بھی بڑی تعداد قبضے سے محروم
گرین اینکلیو-II / اسکائی گارڈن ہاؤسنگ اسکیم
دسیوں ہزار سرکاری ملازمین رجسٹرڈ
برسوں سے انتظار، قبضے کا کوئی واضح روڈ میپ نہیں
F-14/15 ہاؤسنگ پراجیکٹ
آغاز: 2015
منصوبہ بند پلاٹس: 6,746
ترقی نہ ہونے کے برابر، منصوبہ عملاً غیر فعال
پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (PHAF)
سرکاری کنٹرول میں ہاؤسنگ ادارہ
I-12/1 اپارٹمنٹس سمیت متعدد منصوبے
سست روی، ڈیڈ لائنز کی بار بار خلاف ورزی
کسی پر کوئی کارروائی نہیں
سی ڈی اے اور آر ڈی اے: دوسروں کے لیے سخت، خود کے لیے ناکام
سی ڈی اے اور راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RDA) نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائیاں کرتی ہیں—این او سیز منسوخ، سوسائٹیاں سیل، 100 سے زائد اسکیمیں غیر قانونی قرار۔
مگر اپنی سرکاری اسکیموں میں:
دہائیوں پر محیط تاخیر
اربوں روپے کی لاگت میں اضافہ
منفی آڈٹ رپورٹس (مثلاً نیلور ہائٹس)
عدالتی احکامات پر عملی عملدرآمد نہیں
نتیجہ: شہری متاثر، افسران بے خوف۔
G-16 اور NHF: وہی پرانی کہانی
G-16 وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور
نیشنل ہائی وے فاؤنڈیشن (NHF) کے منصوبے بھی E-12 جیسے ہی ہیں:
مکمل ادائیگی
کوئی فزیکل الاٹمنٹ نہیں
20 سال سے زائد عرصہ بغیر قبضہ
الاٹیوں کے مطابق بدعنوانی، نااہلی اور دانستہ بیوروکریٹک سستی اس بحران کی جڑ ہے، جبکہ نیب اور ایف آئی اے جیسی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ضمنی نقصان: اعتماد کا خاتمہ اور شہری انتشار
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان ناکامیوں نے:
ریاستی ہاؤسنگ پر عوامی اعتماد ختم کر دیا
شہریوں کو غیر منظم نجی اسکیموں کی طرف دھکیلا
بعد ازاں غیر قانونی قرار دی جانے والی اسکیموں میں سرمایہ کاری بڑھی
اسلام آباد کے منصوبہ بند شہری ماڈل کو شدید نقصان پہنچا
یوں ریاست کی ہاؤسنگ میں ناکامی نے وہی بحران پیدا کیا جسے وہ اب کنٹرول کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
احتساب کا بڑھتا مطالبہ
الاٹی، سول سوسائٹی اور ماہرینِ پالیسی مطالبہ کر رہے ہیں:
وفاقی و صوبائی ہاؤسنگ اسکیموں پر عدالتی یا پارلیمانی تحقیقات
نئی اسکیم لانچ کرنے سے قبل متاثرین کو مکمل اور بروقت معاوضہ
سی ڈی اے، آر ڈی اے، FGEHA اور PHAF کی قیادت کی ذاتی جوابدہی
نیب اور ایف آئی اے کی فوری مداخلت اور مالی بدانتظامی کی تحقیقات
ایک بنیادی حق سے محرومی
رہائش کوئی عیاشی نہیں، بنیادی انسانی ضرورت ہے۔
36 سال بعد بھی مکمل ادا شدہ پلاٹس کا قبضہ نہ ملنا حکمرانی، انصاف اور ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
ان ہزاروں خاندانوں کے لیے، جنہوں نے نیک نیتی سے ادائیگی کی اور دہائیوں انتظار کیا، سوال آج بھی وہی ہے:
اگر ریاست 36 سال میں ایک گھر نہیں دے سکتی، تو زندگی بھر کے ٹوٹے وعدوں کا حساب کون دے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں