جعلی ایف بی ار بے نقاب رانا تصدق کی رپورٹ

جعلی ایف بی آر وفد بے نقاب:

ایف آئی اے نے ویزا اسکینڈل کی تفتیش وسیع کر دی، کسٹمز افسران طلب، ٹیکس افسر تک کروڑوں کی ٹریل

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ویزا فراڈ اور غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے ایک بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کر دیا ہے، جس میں نجی افراد نے جعلی دستاویزات اور اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مبینہ سرکاری پروٹوکول کے ذریعے خود کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران ظاہر کر کے فرانس کا سفر کرنے کی کوشش کی۔
باخبر ذرائع کے مطابق، ایف آئی اے نے ایک ڈپٹی کلکٹر کسٹمز اور ایک کسٹمز کانسٹیبل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل (آج) طلب کر لیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ مشتبہ افراد کو کس سطح پر سہولت، کلیئرنس یا پروٹوکول فراہم کیا گیا۔
ایف آئی اے نے ان تمام کسٹمز افسران اور اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر سرکاری دورے کے جھوٹے بہانے پر ان افراد کو سہولت فراہم کی۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف نے جمعہ کے روز پیرس جانے والے دو مسافروں کو مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر روک لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا کہ دونوں افراد خود کو ایف بی آر کے افسران اور سرکاری مشن پر ظاہر کر رہے تھے۔
بعد ازاں موبائل فونز کے فرانزک تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں مسافر ایک حاضر سروس ٹیکس افسر کے ساتھ مسلسل واٹس ایپ رابطے میں تھے، جس کا نام ایف آئی آر میں شامل ہے۔ مذکورہ افسر نے خود کو ایف بی آر کا کوآرڈینیٹر/افسر اور سیکنڈ سیکریٹری ظاہر کرتے ہوئے ایف بی آر کے نام، عہدے اور ادارہ جاتی ساکھ کا ناجائز استعمال کیا اور نجی افراد کو سرکاری وفد کے ارکان بنا کر پیش کیا۔
ایف آئی اے نے بینکنگ اور دستاویزی شواہد بھی برآمد کیے ہیں جن کے مطابق مذکورہ ٹیکس افسر نے دونوں مسافروں سے مختلف اقساط میں تقریباً 53 لاکھ روپے وصول کیے۔ ایف آئی آر کے مطابق لین دین کی نوعیت، تسلسل اور رقم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم اور منافع بخش نیٹ ورک تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزم افسر نے ایک بظاہر سرکاری ای میل ایڈریس استعمال کر کے غیر ملکی سفارت خانوں اور ویزا حکام کو دھوکہ دیا اور نجی افراد کو سرکاری افسران کے طور پر تصدیق شدہ ظاہر کیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اس اسکیم کا حتمی مقصد یورپ میں غیر قانونی نقل مکانی اور ممکنہ طور پر سیاسی پناہ حاصل کرنا تھا، جسے ریاستی اختیار کے ناجائز استعمال کے ذریعے مالی فوائد کے لیے استعمال کیا گیا۔
دورانِ تفتیش گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ ایف بی آر کے ملازم نہیں بلکہ ایک ڈرائیور اور ایک پراپرٹی ڈیلر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فرانس کے ویزے حاصل کرنے کے لیے مذکورہ ٹیکس افسر سے رابطہ کیا، جس نے دانستہ غلط بیانی اور سرکاری عہدے کی نقالی کے ذریعے یہ ویزے حاصل کروائے۔
ادھر ایف آئی آر میں نامزد ٹیکس افسر نے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے، جبکہ مقامی عدالت نے گرفتار نجی افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
اس اسکینڈل نے ایف بی آر کے اندرونی نظم و ضبط، احتساب اور بالخصوص ڈیپوٹیشن کلچر پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں متنازع اور مشکوک افسران کو غیر متعلقہ محکموں میں تعینات کر کے مؤثر نگرانی سے بچایا جاتا ہے۔
معاملے سے واقف مبصرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ڈیپوٹیشن کی آڑ میں چھپے تمام طفیلی عناصر کو یا تو فوری طور پر ایف بی آر واپس بلایا جائے یا مکمل طور پر نظام سے نکال دیا جائے۔ ان کے مطابق ڈیپوٹیشن نااہلی، کرپشن یا اثر و رسوخ کے لیے پناہ گاہ نہیں بن سکتی، کیونکہ ایسے عناصر عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر (فنانس ڈویژن) اور چیئرمین ایف بی آر سے مطالبات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ وہ پورے محکمے میں صفائی کا جامع آپریشن شروع کریں، قانون کی عملداری یقینی بنائیں اور زوال پذیر ٹیکس مشینری پر دوبارہ کنٹرول حاصل کریں۔
ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو یہ تاثر مزید مضبوط ہو جائے گا کہ ایف بی آر کو ازسرِنو ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے، حتیٰ کہ اسے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز (SOE) میں تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے تاکہ شفافیت، گورننس اور احتساب یقینی بنایا جا سکے۔
ایف بی آر کوئی مقدس گائے نہیں، اور پاکستان کا عام ٹیکس دہندہ، جو پہلے ہی سخت اور ناقص مالیاتی پالیسیوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے، ادارہ جاتی زوال، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منتخب احتساب کی قیمت مسلسل ادا کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں