ایک اور کہانی 

اسلام آباد (عابدمنہاس کی رپورٹ)بوتل لینے نکلی تھی کفن پہن کر لوٹی!
یہ راولپنڈی تھانہ رتہ امرال کے علاقہ ڈھوک حسو کے رہائشی علی رضا کی چھوٹی بہن مصباح ہے، جس کی عمر محض 14 سال تھی۔ 22 جنوری کو گھر سے دکان تک کا چند قدم کا فاصلہ اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ باہر کوئی انسان نہیں بلکہ انسانی روپ میں ایک درندہ اس کی تاک میں بیٹھا ہے۔
دو دن کی تلاش کے بعد، 24 جنوری کو مصباح ملی تو سہی، مگر ایک بوری میں بند… بے جان… بے آواز۔
ہماری بے حسی کے چند سوالات:
ریاست کہاں تھی؟ جب 22 جنوری کو اغوا کا مقدمہ درج ہوا، تو کیا سرچ آپریشن صرف کاغذی کارروائی تک محدود تھا؟
معاشرہ کہاں تھا؟ کیا کسی نے اس درندے کو بوری ٹھکانے لگاتے نہیں دیکھا؟ یا ہم نے ہمیشہ کی طرح دیکھ کر نظریں چرا لیں؟
انصاف کب ملے گا؟ کیا مصباح کا نام بھی زینب اور دیگر معصوموں کی طرح صرف چند دن کے ہیش ٹیگز تک محدود رہے گا؟
یہقتل نہیں، معاشرتی خودکشی ہے!
ہماری لاپرواہی اور مجرموں کو ملنے والی ڈھیل کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری بیٹیاں اپنے ہی محلے کی دکان تک جانے سے کتراتی ہیں۔ جب تک درندوں کو سرِ عام عبرت کا نشان نہیں بنایا جائے گا، یہ بوریاں اسی طرح ملتی رہیں گی اور ہم اسی طرح ماتم کرتے رہیں گے۔
مصباح ہم سب سے سوال کر رہی ہے: کیا میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں ایک کمزور بچی تھی؟ یا یہ کہ میں ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوئی جہاں لہو سستا اور انصاف مہنگا ہے؟
سچ تو یہ ہے: یہ معاشرہ اب بچوں کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ اور جتنا جلدی ہم اس سچ

اپنا تبصرہ بھیجیں