سائیبر کرائیم ونگ کا ایک اور تہلکہ خیز سکینڈل

🔥 سائبر کرائم ونگ بے نقاب: ایف آئی اے نے اپنے ہی افسران کو کروڑوں روپے کے بھتہ خوری اسکینڈل میں نامزد کر دیا 🔥
رانا تصدق حسین
گوجرانوالہ: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) گوجرانوالہ میں بدعنوانی کا ایک ہولناک اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل نے اپنے ہی ادارے کے تین افسران اور ان کے نجی سہولت کاروں کے خلاف سنگین نوعیت کا فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ میں کرپشن، رشوت، بھتہ خوری، غیرقانونی حراست، تشدد اور اختیارات کے صریح ناجائز استعمال جیسے الزامات شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق، این سی سی آئی اے کے افسران نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کو منظم انداز میں کمائی کا ذریعہ بنا رکھا تھا، جہاں آن لائن فراڈ اور کرپٹو کرنسی کے مقدمات میں ملوث افراد سے کروڑوں روپے کے غیرقانونی “ڈیلز” طے کر کے انہیں رہا کیا جاتا رہا۔
یہ کیس خفیہ رپورٹس اور ایک شہری کی شکایت پر شروع کیا گیا، جو مزمل اقبال، ساکن گارڈن ٹاؤن گوجرانوالہ، نے درج کرائی۔
مزمل اقبال کے مطابق 2 فروری 2025 کو نامعلوم افراد، جو خود کو ایف آئی اے اہلکار ظاہر کر رہے تھے، اس کے گھر داخل ہوئے، اہل خانہ کو یرغمال بنایا، مرد افراد پر تشدد کیا، 15 موبائل فونز، ایک لیپ ٹاپ، نقد رقم، اے ٹی ایم کارڈز اور حتیٰ کہ ایک گاڑی بھی قبضے میں لے لی، جبکہ متاثرین کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں۔
بعد ازاں پورے خاندان کو ایف آئی اے سائبر کرائم آفس منتقل کیا گیا، جہاں آن لائن کاروبار اور کرپٹو کرنسی سے متعلق تفتیش کے نام پر دباؤ ڈالا گیا۔
ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرین کو بار بار نقد رقم، کرپٹو کرنسی اور بینک ٹرانسفرز کے ذریعے ادائیگی پر مجبور کیا گیا، اور انکار کی صورت میں سنگین قانونی نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
مزمل اقبال نے بتایا کہ ایف آئی اے اہلکاروں کی مداخلت سے بالآخر 3 کروڑ روپے کی ڈیل طے پائی، جس میں سے 30 لاکھ روپے نقد جبکہ تقریباً 15 لاکھ روپے بینک اور اے ٹی ایم کے ذریعے ادا کیے گئے، جس کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ کچھ سامان واپس کر دیا گیا، تاہم نقد رقم اور ایک موبائل فون آج تک واپس نہیں کیا گیا۔
ایک اور متاثرہ شخص، سلمان رضا، نے الزام لگایا کہ اس کے خاندان کو بھی اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 5 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا۔
ابتدائی انکوائری کے بعد ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے اہلکار مجاہد علی، شہروز اور اللہ یار، جبکہ نجی سہولت کاروں حاجی وقار، عاصم محمود اور عثمان علی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، انسدادِ بدعنوانی قوانین اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تین سرکاری اہلکاروں سمیت متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں، اور جو بھی قصوروار پایا گیا، خواہ اس کا عہدہ یا رتبہ کچھ بھی ہو، اسے قانون کے مطابق سزا اور سخت محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔