سائبر کرائم ونگ کے بعد ایف بی ار بھی کرپشن کی زد میں

ایف بی آر ویزا اسکینڈل بے نقاب: سینئر افسر پر فرانس کے ویزے فروخت کرنے کا سنگین الزام

پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد ظاہر کر کے ایمبیسی کو گمراہ کیا گیا، کروڑوں کی لین دین، ایف آئی اے حرکت میں

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ایک بڑے ویزا فراڈ اسکینڈل کی زد میں آ گیا ہے، جہاں ایک سینئر ایف بی آر افسر پر الزام ہے کہ اس نے پرائیوٹ افراد کو جعلی طور پر سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوائے۔
ذرائع کے مطابق کامران اور عامر شہزاد نامی دو نجی افراد کو ایف بی آر کا ملازم ظاہر کیا گیا اور انہیں سرکاری وفد کا رکن بنا کر فرانسیسی سفارت خانے کو سرکاری ای میل ارسال کی گئی، تاکہ ویزا حاصل کیا جا سکے۔
انکشاف ہوا ہے کہ ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان نے اس غیر قانونی عمل کے عوض 53 لاکھ روپے وصول کیے۔ یہ رقم بینک کے ذریعے منتقل کی گئی، جس کے شواہد ایف آئی اے کے پاس موجود ہیں۔
معاملہ سامنے آنے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل نے ایف بی آر افسر اور دیگر ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کارروائی کے دوران کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کی تصدیق کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس میں:
اختیارات کے ناجائز استعمال
سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی
غیر ملکی سفارت خانے کو گمراہ کرنے
رشوت اور غیر قانونی مالی لین دین
جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
یہ اسکینڈل ایف بی آر کے اندرونی نظام، سرکاری ای میل کے غلط استعمال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سرکاری دستاویزات کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دائرۂ تفتیش کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں