ایمان مزاری کی دلچسپ سٹوری

‏ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے مقدمے میں ضمانت کا کیس، جسٹس اعظم خان کا ایک اور “باریک” آرڈر!
‏ہوا کچھ یوں کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیس میں سینئر وکیل کامران مرتضی نے ساری ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے ضمانت مانگی !

‏کامران مرتضی: میں نے عدالت کے حکم پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پیش ہونے کا کہا، میری وجہ سے یہ ہوا کہ ان کو یہاں تک لایا گیا اور گرفتاری کی کوشش ہوئی اور میں نے ہی کہا کہ یہاں رکیں، یہ تو تعجب کی بات ہے کہ ایک پرانے مقدمے میں گرفتاری کی جائے، اس عمارت میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا آپ کا ہے، یہ بہت برا لگتا ہے کہ ایک وکیل کو نئی ضمانت کے بعد یوں پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیں

‏جسٹس اعظم خان: کب کی ایف آئی آر ہے یہ؟

‏کامران مرتضی: یہ 26 جولائی 2025 کی ایف آئی آر ہے، اس کے بعد دو تین درجن مرتبہ ایمان مزاری عدالت میں پیش ہوئیں، اب یہ ایف آئی آر نکال لائے ہیں فائرنگ اور ملک دشمنی کی(کامران مرتضی نے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی، جس میں جسٹس اعظم خان نے ایمان مزاری کے بابر لکھے الفاظ خود باآواز بلند پڑھے)

‏جسٹس اعظم خان: اس میں حفاظتی ضمانت چاہئے؟

‏کامران مرتضی ایڈووکیٹ: صرف اس کیس میں نہیں، ہمیں کیا پتا ہے کہ باہر جائیں اور کسی کو چھیڑنے یا کوئی اور کام کرنے کی ایف آئی آر بنا لیں، پہلے بتائیں کہ کتنے کیسز ہی خدانخواستہ ہم سب کچھ ہو سکتے ہیں ملک دشمن نہیں ہو سکتے، حکومت کے مخالف ہو سکتے ہیں لیکن ملک دشمنی کا کہنا غلط ہے، میں نظائر لے کر آیا ہوں ان کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے

‏جسٹس اعظم خان: دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت دے رہا ہوں اس کیس میں، باقی میں دیکھ لیتا ہوں، کل والے مقدمے میں الگ سے درخواست لائیں تا کہ ضمانت میں توسیع کر سکوں۔

‏یوں مقدمے کی محض 7 منٹ میں ختم ہوئی اور مکمل حفاظتی ضمانت کے بجائے صرف جولائی 2025 کے کیس میں ضمانت ملی، اب معلوم نہیں کہ پولیس باہر ایک اور ایف آئی آر لیے تیار کھڑی ہو لیکن عدالت نے اس ایک کیس کی حد تک خود کو محدود رکھا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں