پنڈی میں مانیٹرنگ فورس تعینات


25 رکنی مانیٹرنگ فورس کی روزانہ فیلڈ نگرانی شروع

رانا تصدق حسین

راولپنڈی: راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو مسلسل اور براہِ راست نگرانی میں لانے کے لیے ضلعی سطح کا پرفارمنس مانیٹرنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 25 رکنی خصوصی مانیٹرنگ فورس روزانہ کی بنیاد پر انتظامی کارکردگی کا فیلڈ آڈٹ کرے گی۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے اس نمائندے کو بتایا کہ یہ نظام وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایات پر متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، احتساب کو مضبوط کرنا اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنانا ہے۔

اس نظام کے تحت 22 اہم شعبوں کے لیے مرتب کردہ کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) مانیٹر کیے جائیں گے، جو عوام کی جان، صحت اور روزمرہ زندگی سے براہِ راست متعلق مسائل پر مرکوز ہیں۔
ڈاکٹر چیمہ کے مطابق، “ہمارا ہدف شکایات پر فوری ردعمل، مسائل کا تیز حل اور پورے ضلع میں سخت فیلڈ لیول مانیٹرنگ ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ 25 رکنی فورس باقاعدہ طور پر تشکیل دی جا چکی ہے اور صوبائی حکومت نے انہیں موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں تاکہ وہ گلیوں، ہسپتالوں، عوامی مقامات اور سروس ڈیلیوری پوائنٹس تک باآسانی پہنچ سکیں۔

مانیٹرنگ ٹیمیں کھلے مین ہولز، آوارہ کتوں کے خطرات، صفائی کی خراب صورتحال، ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی، مریضوں کی شکایات اور دیگر شہری مسائل کی نشاندہی کر کے فوری رپورٹ کریں گی۔

اس نظام کے تحت مانیٹرنگ اینڈ کمپلائنس سیل قائم کیا گیا ہے، جس کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر (ہیومن ریسورس) کر رہے ہیں۔ فیلڈ ٹیمیں روزانہ شام کو اپنی رپورٹس جمع کرواتی ہیں، جنہیں اگلے دن متعلقہ محکموں کو کارروائی کے لیے ارسال کیا جاتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق، متعلقہ محکمے دو سے تین دن کے اندر لازمی طور پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کے پابند ہوں گے، جس کے بعد ٹیمیں دوبارہ موقع پر جا کر مسئلے کے حل کی تصدیق کریں گی اور رپورٹ فوری طور پر لاہور بھجوا دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مانیٹرنگ اسٹاف کو لاہور میں خصوصی تربیت دی گئی ہے اور انہیں جدید موبائل فونز فراہم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے موقع پر بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز ریئل ٹائم اور جیو ٹیگنگ کے ساتھ ہیڈکوارٹرز تک پہنچائی جا سکیں گی۔

مزید بتایا گیا کہ ضلعی اور تحصیل سطح پر انسپکشن ٹیمیں قائم کی گئی ہیں، ہر تحصیل میں کم از کم دو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جنہیں موٹر سائیکلیں اور یونیفارم فراہم کیے گئے ہیں تاکہ نگرانی مؤثر اور مسلسل رہے۔

ڈاکٹر چیمہ کا کہنا تھا کہ چاہے شکایات براہِ راست عوام کی جانب سے موصول ہوں یا سرکاری ذرائع سے، ٹیمیں فوری نوٹس لے کر کارروائی کریں گی۔

ابتدائی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کئی علاقوں میں خطرناک مین ہولز بند کیے جا چکے ہیں، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں طبی سہولیات بہتر ہوئی ہیں اور شہروں، قصبوں اور دیہات میں صفائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ KPIs ایسے عددی اور عملی پیمانے ہیں جن کے ذریعے ضلعی حکومت کی کارکردگی، وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا مؤثر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

“اس نظام کے ذریعے تعلیم، صحت اور انتظامیہ سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی کو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور مستقل بہتری کو یقینی بنایا جا سکے،” ڈپٹی کمشنر نے کہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں