نیشنل ہائی وے اتھارٹی ڈیپوٹیشن مافیا کا وار

عدالتی فیصلے نظرانداز، سینیئر افسران کو بائی پاس کرتے ہوئے سی ای او کا متنازع رد و بدل
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے نو تعینات چیف ایگزیکٹو آفیسر، کیپٹن (ر) اسداللہ خان کی جانب سے “گورننس ریفارمز” کے نام پر اعلیٰ انتظامیہ میں وسیع پیمانے پر رد و بدل نے ادارے میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق یہ اقدام اصلاحات کے بجائے این ایچ اے پر ڈیپوٹیشن افسران کی گرفت مضبوط کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جو کھلے عام عدالتی فیصلوں، سروس رولز اور میرٹ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
جمعہ کے روز جاری ہونے والے متعدد نوٹیفکیشنز کے تحت این ایچ اے کے انتہائی حساس اور طاقتور عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے، جن میں ممبر ایڈمنسٹریشن، ممبر پلاننگ، ممبر ساؤتھ زون (کراچی) سمیت ریونیو، فنانس، پراجیکٹس، کنسٹرکشن اور مینٹیننس ونگز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ رد و بدل ادارے میں استحکام لانے کے بجائے پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا گیا ہے، جبکہ این ایچ اے کے اپنے کیریئر افسران کو ایک بار پھر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔
سب سے متنازع فیصلہ: منصور اعظم کی واپسی
سب سے زیادہ ہنگامہ خیز اقدام بی ایس-20 کے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس (PAAS) کے افسر منصور اعظم کو دوبارہ “لک آفٹر ممبر ایڈمنسٹریشن” مقرر کرنا ہے۔ یہ وہی عہدہ ہے جہاں سے انہیں سابق چیئرمین این ایچ اے شہریار سلطان نے ہٹا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منصور اعظم کی ابتدائی تعیناتی اس وقت کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ کی سرپرستی میں ہوئی تھی۔
ان کی واپسی نے اس لیے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے کہ اس سے این ایچ اے کے اپنے ایڈمنسٹریشن کیڈر کے سینیئر ترین افسر، سجاد احمد خان کو ایک بار پھر نظرانداز کر دیا گیا، جو طویل عرصے سے اپنے ہی ادارے میں انصاف کے منتظر ہیں۔
یہ تقرری اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح فیصلے (W.P. No. 2200/2023 – راؤ وحید بنام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن و این ایچ اے) کی کھلی خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے، جس میں عدالت نے مظہر حسین شاہ (بی ایس-19، ایف بی آر) کو ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے این ایچ اے کو واضح طور پر ہدایت کی تھی کہ ادارے کے اندر سے سینیئر ترین دستیاب افسر کو تعینات کیا جائے۔
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر پرسنل ونگ میں موجود ڈیپوٹیشن گٹھ جوڑ نے عدالتی احکامات اور قانون کی حکمرانی کو پامال کیا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل منصور اعظم کی جگہ ملٹری لینڈز سے آنے والے عمر سعید چوہدری کو تعینات کیا گیا تھا، جنہیں بعد ازاں میگا کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث ہٹا دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق این ایچ اے بغیر کسی احتساب کے وہی غلطیاں دہرانے پر بضد ہے۔
انجینئرنگ کیڈر میں تقرریاں
عبداللطیف مہیسر (بی ایس-20، انجینئرنگ) کو وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایات پر سابق عہدیدار کی برطرفی کے بعد ممبر ساؤتھ زون (کراچی) مقرر کیا گیا۔
سہیل احمد (بی ایس-20، انجینئرنگ) کو ممبر پلاننگ تعینات کیا گیا، جہاں یہ ونگ طویل عرصے سے ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا تھا۔
عمران علی آغا کو سمبڑیال–کھاریاں موٹروے پراجیکٹ کا ممبر مقرر کیا گیا۔
ریونیو اور فنانس میں بڑی تبدیلیاں
احمد حسن کو جنرل منیجر ریونیو تعینات کیا گیا، جبکہ سابق جی ایم تیمور حسن کو کرپشن اور خرد برد کے الزامات کے بعد ہٹا دیا گیا، جس پر وزیر اعظم کی جانب سے انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
کشور علی کو جنرل منیجر فنانس مقرر کیا گیا۔
سیف الرحمٰن کو ڈائریکٹر ریونیو (ٹیک) تعینات کیا گیا۔
پراجیکٹس، کنسٹرکشن اور مینٹیننس
افتاب اللہ بابر کو جی ایم آر اے ایم ڈی،
مزہراللہ کو جی ایم مینٹیننس N-130 / N-135،
نور مصطفیٰ کو جی ایم M-14 (این ایچ اے برہان)،
رفاقت علی کو راولپنڈی–کھاریاں موٹروے پراجیکٹ کا جی ایم،
خاور وقار کو جی ایم کنسٹرکشن اینڈ مینٹیننس M-4 (فیصل آباد)،
عبدالقدوس شیخ کو جی ایم کنسٹرکشن سندھ ساؤتھ مقرر کیا گیا۔
ظافر یعقوب خان کو ڈائریکٹر مینٹیننس N-130 (میانوالی) تعینات کرتے ہوئے حکلہ–ڈی آئی خان موٹروے کے پیکج I اور II سمیت متعدد اضافی چارجز بھی دے دیے گئے۔
محمد رضوان نعیم کو ڈائریکٹر آر اے ایم ڈی،
شمس الرحمٰن کو ڈپٹی ڈائریکٹر مینٹیننس گلگت،
عالمگیر خان کو ڈپٹی ڈائریکٹر مینٹیننس چلاس تعینات کیا گیا۔
اضافی چارجز اور دیگر فیصلے
سید تصور حسین شاہ (ڈی ڈی لینڈ اسلام آباد) کو سمبڑیال–کھاریاں اور کھاریاں–راولپنڈی موٹروے منصوبوں کا اضافی چارج دیا گیا۔
احمد بلال ننگیانہ کو ڈی ڈی مینٹیننس M-3 لاہور،
صباحات احمد چوہدری کو پراجیکٹ ڈائریکٹر سیالکوٹ (سمبڑیال–کھاریاں موٹروے)،
بشارت علی منگی کو ڈی ڈی مینٹیننس این ایچ اے سکھر کے ساتھ سرحد بائی پاس–ڈہرکی (N-5) پراجیکٹ کا اضافی چارج دیا گیا۔
ثقلین مہدی (ڈی ڈی ویلفیئر-II) کو ڈی ڈی ایڈمن اسلام آباد–پشاور موٹروے اور ڈی ڈی ایڈمن ایچ آر ٹی سی، این ایچ اے برہان کا اضافی چارج دیا گیا۔
محمد حسنین (ڈی ڈی انجینئر سروسز) کو وزارتِ مواصلات کے سپرد کر دیا گیا۔
پرسنل ونگ: میوزیکل چیئرز، کوئی احتساب نہیں
حیران کن طور پر پورے این ایچ اے میں ہلچل کے باوجود پرسنل ونگ، جس پر پوسٹنگز اور ٹرانسفرز کو “انجینئر” کرنے کے الزامات ہیں، تقریباً جوں کا توں رہا، جو روٹیشن پالیسی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
صرف نشستوں کی تبدیلی دیکھنے میں آئی:
محمد یوسف ثانی (ڈی ڈی پرسنل-I)،
جواد احمد (ڈی ڈی پرسنل-II)،
عزرہ بی بی (ڈی ڈی کنفیڈینشل)،
سید ریاض حسین کاظمی کو غیر موجود پوسٹ ڈی ڈی ویلفیئر-1 پر تعینات کیا گیا،
تنویر رضا (ڈی ڈی ٹرانسپورٹ) کو ڈی ڈی ایڈمن گلگت کا اضافی چارج دیا گیا۔
ساجد اعوان (ڈی ڈی ایچ آر ایم آئی ایس) بدستور تعینات ہیں۔
اسی دوران بی پی ایس-18 کی ڈیپوٹیشن پر تعینات پی اے اے ایس افسر حرا رضوان بدستور ڈائریکٹر آئی ایس او کے ساتھ پانچ اضافی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ ان کی ڈیپوٹیشن میں توسیع بھی دی جا چکی ہے، جو مفادات کے تصادم اور
اختیارات کے ارتکاز پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ بدنامِ زمانہ اور مبینہ طور پر کرپٹ کمپیوٹر پروگرامر عظیم خان بدستور ڈپٹی ڈائریکٹر (جنرل سروسز اینڈ اسٹورز) کے عہدے پر فائز ہیں، حالانکہ ان کے خلاف میگا کرپشن اسکینڈلز اور آڈٹ اعتراضات موجود ہیں، جو ادارہ جاتی سرپرستی کے تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
اصل سوال
کیا یہ رد و بدل واقعی گورننس اصلاحات کے لیے ہے یا این ایچ اے پر ڈیپوٹیشن افسران کے منظم قبضے کا ایک اور باب، جو عدالتی فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی اور کیریئر افسران کی قربانی پر لکھا جا رہا ہے؟
مزید یہ کہ ذرائع کا الزام ہے کہ اہم مقامات پر تعینات کیے گئے کئی جی ایم انجینئرز سے آفیشیئٹنگ سیکریٹری مواصلات کو بھاری رقوم ادا کروائی گئیں، جبکہ ٹرانسفرز اور پوسٹنگز افواہوں، ذاتی پسند و ناپسند اور بیرونی دباؤ پر کی گئیں، نہ کہ “صحیح آدمی، صحیح جگہ” کے اصول کے تحت۔
رد و بدل کے بعد این ایچ اے پہلے سے کہیں زیادہ منقسم دکھائی دیتا ہے، جس نے پارلیمنٹ، عدلیہ اور وفاقی حکومت کے لیے ایک سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے:
آخر پاکستان کے اس اہم ترین ادارے کو کن ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے؟