سبز وجود کو خطرہ چئیر مین طلب

اسلام آباد کا سبز وجود خطرے میں

سینیٹ کی سی ڈی اے چیئرمین کو طلبی، بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، انتظامی بے ضابطگیاں اور عوامی غم و غصہ ایک نقطے پر آن پہنچے

رانا تصدق حسین

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت ایک سنگین ماحولیاتی اور انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو طلب کر لیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد کی سبز شناخت کو ترقی کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ درختوں اور سبز علاقوں کے مزید تحفظ کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین اور ریگولیٹری رکاوٹوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تباہی روکی جا سکے۔
سینیٹ کی یہ مداخلت اس وقت سامنے آئی ہے جب H-8، اسلام آباد ایکسپریس وے، شکرپڑیاں کی پہاڑیاں اور ایف-9 پارک جیسے علاقوں میں درختوں کی کٹائی پر عوامی غصہ عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تصاویر نے دارالحکومت کے ان علاقوں کو—جو ہمیشہ اسلام آباد کے ماحولیاتی پھیپھڑے سمجھے جاتے رہے—شدید نقصان کی تصویر بنا کر پیش کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں حکومتی دفاع
اسی دوران قومی اسمبلی میں ہونے والی بحث میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے درختوں کی کٹائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے تنقید کو “غلط فہمی” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور شہری ترقی کے لیے بعض اقدامات ناگزیر تھے اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مخصوص درختوں کو ہٹانا ضروری تھا۔
وزیر مملکت کے مطابق شہتوت (جنگلی شہتوت) کے درخت، جو موسمِ بہار میں زیادہ پولن خارج کرتے ہیں، الرجی اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے انہیں کاٹا گیا۔
سرکاری مؤقف اور اعداد و شمار
سی ڈی اے اور وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سائنسی بنیادوں پر، صحت کے تحفظ کے لیے تیار کردہ منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔
طلال چوہدری نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب تک اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں تقریباً 29,115 درخت کاٹے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق:
کاٹے گئے درختوں سے زیادہ تعداد میں شجرکاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہے
مقامی اور کم پولن پیدا کرنے والی اقسام لگائی جائیں گی
شہر کی سبز خوبصورتی کو بحال اور بہتر بنایا جائے گا
ماحولیاتی تنظیموں کے شدید تحفظات
ماحولیاتی تنظیموں، بالخصوص ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان، نے سرکاری بیانیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ امیجز، زمینی مشاہدات اور فیلڈ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ درختوں کی کٹائی صرف شہتوت تک محدود نہیں بلکہ:
سڑکوں کی چوڑائی
شہری ترقیاتی منصوبے
انفراسٹرکچر کی توسیع
کے نام پر وسیع پیمانے پر سبزہ ختم کیا جا رہا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بے قابو شجر کٹائی کے نتیجے میں:
اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ میں اضافہ
زیرِ زمین پانی کی ریچارج میں کمی
فضائی آلودگی میں اضافہ
شہری حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان
ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) یا تو کمزور ہیں یا سرے سے موجود ہی نہیں۔
سی ڈی اے کا مؤقف
سی ڈی اے کا اصرار ہے کہ پوری کارروائی قانونی، دستاویزی اور مجاز احکامات کے تحت کی گئی ہے۔
اتھارٹی کے مطابق:
درخت سائنسی شناخت کے بعد ہی ہٹائے جاتے ہیں
تمام قانونی منظوریوں اور ریکارڈ کی تکمیل کی جاتی ہے
متبادل شجرکاری کے پروگرام جاری ہیں
ماحولیاتی نگرانی کا عمل برقرار رکھا جائے گا
سی ڈی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم اندھا دھند نہیں بلکہ اسلام آباد کے سبز رقبے کو بالآخر محفوظ اور وسیع کرنے کے لیے ہے۔
مسلم کالونی متاثرین کا محاذ آرائی کی جانب قدم
اس بحران نے ایک سیاسی اور قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔
مسلم کالونی کے متاثرین، بار ایسوسی ایشنز کی حمایت کے ساتھ، پہلے ہی اسلام آباد کی موجودہ انتظامیہ کو ہٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
مشترکہ مطالبے میں فوری برطرفی کا مطالبہ کیا گیا ہے:
چیئرمین سی ڈی اے / چیف کمشنر ICT
انسپکٹر جنرل پولیس، اسلام آباد
ڈپٹی کمشنر ICT
ڈائریکٹر DMA
متاثرین اور وکلا برادری کا کہنا ہے کہ ان افسران کی موجودگی:
احتساب کو متاثر کر رہی ہے
انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے
عوامی اعتماد کو بری طرح مجروح کر رہی ہے
ان کا الزام ہے کہ دارالحکومت میں طرزِ حکمرانی قانون کی بالادستی کے بجائے جبر پر مبنی انتظام میں بدل چکی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قانونی کارروائی اور عوامی مزاحمت میں شدت آئے گی، جو اس معاملے کو قومی سطح پر انتظامی استثنیٰ بمقابلہ آئینی حکمرانی کا ٹیسٹ کیس بنا دے گی۔
پارلیمانی دباؤ میں اضافہ
سینیٹ اور قومی اسمبلی—دونوں—اب ماحولیاتی اور انتظامی معاملات پر متحرک ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں سی ڈی اے اور وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ:
شفاف ڈیٹا فراہم کیا جائے
سائنسی بنیادوں پر جواز پیش کیا جائے
شجرکاری کے نتائج قابلِ تصدیق انداز میں دکھائے جائیں
جب اسلام آباد میں درخت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پالیسی سازوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہے:
کیا دارالحکومت کو صحت اور ترقی کے نام پر بچایا جا رہا ہے، یا اس کی سبز روح اور ادارہ جاتی ساکھ کو منظم انداز میں کھوکھلا کیا جا رہا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں