دارالحکومت اسلام اباد میں اضطراب

عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی، دارالحکومت میں اضطراب: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی، عوامی سطح پر انتظامیہ کی برطرفی کے مطالبات

رانا تصدق حسین

اسلام آباد — وفاقی دارالحکومت میں انتظامی سرکشی کو بے نقاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ایک فیصلہ کن عدالتی اقدام کے تحت چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) محمد علی رندھاوا، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ ڈاکٹر انعم فاطمہ، اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ کامران بخت کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ کارروائی نور پور شاہاں کے رہائشیوں کے خلاف عدالتی احکامات کے باوجود جاری جبری آپریشنز اور عدالتی فیصلوں پر دانستہ عدم عملدرآمد کے باعث کی گئی۔
جسٹس اکرام امین منہاس نے رِٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 سے متعلق توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 16 جنوری کے لیے باضابطہ توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سی ڈی اے کی کارروائیاں بادی النظر میں عدالتی اختیار اور قانون کی حکمرانی کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔
حتمی فیصلہ نظرانداز، آپریشن جاری
توہینِ عدالت کی درخواست اصل درخواست گزار تنظیر حسین کی جانب سے دائر کی گئی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 جون 2025 کو دیا گیا حتمی اور واجب التعمیل عدالتی فیصلہ ہونے کے باوجود سی ڈی اے نے دانستہ طور پر اس پر عملدرآمد نہیں کیا۔
عدالتی فیصلے کے برعکس انفورسمنٹ آپریشنز میں شدت لائی گئی، جس کے نتیجے میں نور پور شاہاں کے رہائشیوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا—جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں واضح کیا گیا کہ:
فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا تھا
کسی قسم کی حکمِ امتناعی، معطلی یا ترمیم نافذ نہیں تھی
سی ڈی اے حکام فیصلے سے مکمل طور پر آگاہ تھے
اس کے باوجود انفورسمنٹ کارروائیاں جاری رہیں، جو دانستہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہیں
ان حقائق کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے تقدس کے تحفظ اور انتظامی تجاوزات کو روکنے کے لیے توہینِ عدالت کی کارروائی کو ناگزیر قرار دیا۔
قانونی برادری کی بے مثال یکجہتی
سماعت کے دوران قانونی برادری کی غیر معمولی یکجہتی دیکھنے میں آئی۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار کونسل، اور نور پور شاہاں کے متاثرہ مکینوں کی نمائندگی کرنے والے مقامی وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں پیش ہوئی۔ وکلا نے بے دخل کیے گئے شہریوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی ناگزیر حیثیت کو اجاگر کیا۔
عوامی غم و غصہ، انتظامیہ کے خلاف شدید ردِعمل
عدالتی کارروائی کے ساتھ ہی اسلام آباد میں عوامی غصہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔
شہریوں، سول سوسائٹی اور قانونی کارکنوں نے چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے کی فوری برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عہدیداران عوامی خدمت کے بجائے نمائشی اقدامات، آئینی انحراف اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
مظاہرین اور شہری تنظیموں نے انفورسمنٹ اختیارات کے مسلسل غلط استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو قانون، شفافیت اور جوابدہی کے بجائے خوف، تشہیری مہمات اور من مانی مسماریوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
آئینی حکمرانی کا کڑا امتحان
قانونی ماہرین نور پور شاہاں کے معاملے کو پاکستان میں آئینی حکمرانی، سول انتظامیہ کی جوابدہی اور عدالتی بالادستی کا ایک فیصلہ کن امتحان قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اختیار عوام کے ذریعے، عوام کے لیے اور عوام کی مرضی کے مطابق استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ جبر، طاقت کے مظاہرے اور عدالتی حدود سے تجاوز کے ذریعے۔
یہ کیس 16 جنوری کو دوبارہ مقرر ہے، جب نامزد افسران کو ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر یہ وضاحت دینا ہوگی کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں