سابقہ بیوی کے الزامات ڈی پی او ڈی جی خان کا موقف ا گیا

ڈیرہ غازی خان (کرائم رپورٹر)اپ کا بیوی کے الزامات کے حوالے سے ڈی پی اوڈیرہ غازی خان کا موقف سامنے اگیا ہے جس میں انہوں نےاپنے خلاف سوشل میڈیا پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تمام دعوے بے بنیاد، من گھڑت اور عوام کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق ایک معزز بلوچ خاندان سے ہے جہاں خواتین کی عزت و احترام کو صدیوں سے بنیادی قدر کے طور پر اپنایا جاتا رہا ہے، جبکہ بطور پولیس افسر ان کی اولین ترجیح ہمیشہ قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت رہی ہے۔
سردار صادق خان بلوچ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر “عائشہ” نامی آئی ڈی سے مسلسل جھوٹ پر مبنی اور اشتعال انگیز ویڈیوز اپلوڈ کی جا رہی ہیں جن کا مقصد ان کی ذاتی، خاندانی اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا اور سستی شہرت حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ مواد محض ویوز اور فالوورز بڑھانے کی غرض سے تیار کیا جا رہا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈی پی او نے وضاحت کی کہ جون 2023 سے جون 2024 تک وہ اپنی دوسری اہلیہ کے ساتھ ازدواجی رشتے میں رہے، تاہم باہمی اختلافات کے باعث جون 2024 میں باقاعدہ طلاق ہو چکی ہے۔ اس رشتے سے ان کا ایک بیٹا ہے جس کی کفالت اور ذمہ داری وہ قانون اور اخلاقی اقدار کے مطابق پوری دیانت داری سے ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری شادی اور طلاق سے متعلق تمام حقائق ان کے سینئر افسران اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام کے علم میں پہلے سے موجود تھے اور اس حوالے سے کسی قسم کی پردہ پوشی نہیں کی گئی۔
سردار صادق خان بلوچ کے مطابق طلاق کے بعد سابقہ اہلیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلسل منفی اور گمراہ کن مہم چلائی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ذات بلکہ محکمہ پولیس اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مکمل طور پر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں درخواست دائر کی، جس پر ہونے والی انکوائری میں ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔
ڈی پی او ڈیرہ غازی خان نے زور دے کر کہا کہ نجی اور خاندانی نوعیت کے معاملات کو سوشل میڈیا پر اچھالنا اخلاقی، سماجی اور قانونی حدود کے منافی ہے۔ انہوں نے میڈیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ اور یکطرفہ معلومات پر یقین کرنے کے بجائے حقائق اور ذمہ دارانہ صحافت کو مدنظر رکھیں