افسران کو ڈالروں میں ادائیگیاں۔سینیٹ ہنگامہ رانا تصدق کی رپورٹ

پی ٹی سی ایل بورڈ میں سرکاری افسران کو ڈالر ادائیگیاں — سینیٹ میں ہنگامہ، وزیرِاعظم کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی، نجکاری کے زخم پھر ہرے

رانا تصدق حسین

اسلام آباد — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کے اجلاس میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے بورڈ میں شامل حاضر سروس سرکاری افسران کو صرف اجلاسوں میں شرکت پر ڈالر میں بھاری رقوم کی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا۔ ارکانِ سی

Pنیٹ نے اس عمل کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور وزیرِاعظم کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
کمیٹی اجلاس اس وقت تلخ ہو گیا جب پی ٹی سی ایل حکام سے بورڈ ممبران، بالخصوص حکومتی نمائندوں کو دی جانے والی مراعات، سہولیات اور فی میٹنگ فیس کی تفصیلات طلب کی گئیں۔
پی ٹی سی ایل کا مؤقف — مگر دفاع ناکام
پی ٹی سی ایل نمائندگان نے ابتدا میں معاملے کو معمولی قرار دینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ یہ “معیاری مراعات” ہیں۔
تاہم سخت جرح کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ بورڈ ممبران کو فی میٹنگ مقررہ فیس ادا کی جاتی ہے۔
یہ اعتراف ہوتے ہی اجلاس میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔
“سرکاری ملازم $8,000 کیسے لے سکتا ہے؟”
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
“اگر یہ سرکاری ملازمین ہیں تو یہ آٹھ ہزار ڈالر فی میٹنگ کیسے لے رہے ہیں؟”
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سرکاری عہدے پر فائز ہو کر اس نوعیت کی ادائیگیاں لینا ناقابلِ قبول، غیر اخلاقی اور عوامی خدمت کے منافی ہے۔
وزیرِاعظم کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی
معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب سینیٹر سعدیہ عباسی نے انکشاف کیا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی اعلیٰ ترین سطح پر اٹھایا جا چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ:
وزیرِاعظم کی جانب سے وفاقی وزیرِ قانون کے ذریعے واضح ہدایات جاری کی گئیں۔
بورڈ ممبران کی ادائیگیوں پر فی کس حد 10 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔
وزیرِاعظم نے حکم دیا کہ اس حد سے زائد وصول کی گئی ہر رقم قومی خزانے میں واپس کی جائے۔
اس پر سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے وہ سوال داغا جو پورے کمرۂ اجلاس میں گونج اٹھا:
“کیا کسی نے ایک روپیہ بھی واپس کیا ہے؟”
پی ٹی سی ایل حکام اس سوال کا کوئی واضح جواب دینے میں ناکام رہے۔
اصل فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟
مزید چھان بین پر پی ٹی سی ایل حکام نے تصدیق کی کہ پی ٹی سی ایل بورڈ میں اس وقت چار حکومتی نمائندے شامل ہیں:
تین وفاقی سیکریٹریز
وزارتِ اقتصادی امور کا ایک وفاقی وزیر
نام پوچھے جانے پر تصدیق کی گئی کہ متعلقہ وفاقی وزیر احد چیمہ ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر شدید شکوک کا اظہار کیا کہ ڈالر میں بھاری ادائیگیاں کس طرح وزیرِاعظم کی مقررہ 10 لاکھ روپے کی حد کے ساتھ بیک وقت جاری رہیں، جس سے عدم تعمیل، جوابدہی کی کمی اور ممکنہ پردہ پوشی کے سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
پی ٹی سی ایل نجکاری — ایک نامکمل اور متنازعہ جرم
اس اسکینڈل نے پی ٹی سی ایل کی متنازعہ نجکاری کے پرانے زخم بھی تازہ کر دیے۔
اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ:
پی ٹی سی ایل کی ایٹسالٹ کے ساتھ نجکاری میں غیر منقولہ اثاثے جان بوجھ کر شامل نہیں کیے گئے۔
قیمتی عمارات، پلاٹس اور انتہائی مہنگے مقامات پر واقع جائیدادیں، حتیٰ کہ پی ٹی سی ایل کا ہیڈ آفس بھی، منتقل نہیں کیا گیا۔
یوں ریاست نے کنٹرول تو کھو دیا، مگر قومی اثاثوں کی مکمل قیمت وصول نہ ہو سکی، جبکہ بورڈ ممبران کی مراعات آج بھی بلا روک ٹوک جاری ہیں۔
وہ سوالات جو پیچھا نہیں چھوڑتے
حاضر سروس سرکاری افسران کو ڈالر میں ادائیگی کی اجازت کس نے دی؟
وزیرِاعظم کے احکامات کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟
کیا واقعی کوئی رقم قومی خزانے میں واپس کی گئی؟
اور کب تک پی ٹی سی ایل کی ناقص نجکاری اشرافیہ کو تحفظ دیتی رہے گی؟
سینیٹ قائمہ کمیٹی نے عندیہ دیا ہے کہ معاملے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، مگر فی الحال پی ٹی سی ایل نہ صرف مشکوک ادائیگیوں بلکہ ایک ایسے نجکاری ماڈل کے باعث بھی بے نقاب ہو چکا ہے جو آج تک احتساب سے ماورا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں