محسن کے احکامات ایف أئی اے کی بڑی کارروائی

زیرو ٹالرنس پر عملدرآمد: وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے احکامات پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی
بدعنوانی، غیرقانونی چھاپوں اور امیگریشن فراڈ میں ملوث 19 افسران و اہلکاروں کو سزائیں
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حالیہ برسوں کی سب سے سخت اور فیصلہ کن داخلی احتسابی کارروائی میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غفلت، غیرقانونی امیگریشن کلیئرنس، بھتہ خوری اور منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو تحفظ فراہم کرنے جیسے سنگین الزامات میں ملوث 19 افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی سزائیں نافذ کر دی ہیں۔
یہ ہمہ گیر کارروائی وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی اور سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کی واضح ہدایات پر عمل میں لائی گئی، جو وزارتِ داخلہ کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور ادارہ جاتی بگاڑ کے خلاف غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق، سزاؤں میں ملازمت سے برطرفی، تنزلیِ عہدہ و پے اسکیل، ترقیوں کی بندش، سالانہ انکریمنٹس کی ضبطگی اور باضابطہ وارننگ شامل ہیں، جو پورے ادارے کے لیے ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے۔
ملازمت سے برطرف کیے گئے افسران و اہلکار
انسپکٹر ماریہ نیاز کو سرکاری رہائش پر غیرقانونی قبضے اور ڈیوٹی سے غیر مجاز غیرحاضری پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
سب انسپکٹر کاشف ریاض اعوان کو غیرقانونی اعضاء کی پیوندکاری میں ملوث گینگ کو تحفظ فراہم کرنے جیسے سنگین جرم پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
سب انسپکٹر تصدق حسین اور سب انسپکٹر احمد وقار کو غیرقانونی چھاپے مارنے اور ناقص و غیرقانونی تفتیش کرنے پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
کانسٹیبل آصف اللہ ڈٹہ کو غیرقانونی چھاپوں اور بھتہ خوری کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
ٹیکنیکل اسسٹنٹ عنایت اللہ کو سنگین غفلت اور غیرقانونی امیگریشن کلیئرنس دینے پر ملازمت سے برخاست کیا گیا۔
تنزلی اور بڑی مالی سزائیں
انسپکٹر محمد ارسلان مسعود خان اور انسپکٹر ادریس خان کو سرکاری انکوائریوں کے دوران رشوت طلب کرنے کے جرم میں پے اسکیل میں تنزلی کی سزا سنائی گئی۔
ترقی اور انکریمنٹس کی بندش
سب انسپکٹر سہیل احمد کو سرکاری فرائض میں غفلت پر ایک سال کے لیے ترقی سے محروم کر دیا گیا۔
سب انسپکٹر شازما شبیر، سب انسپکٹر شبانہ شمشیر، سب انسپکٹر عمر فاروق اور اے ایس آئی فرحان اسرار کو غیرقانونی امیگریشن کلیئرنس کے الزامات پر دو سال کے لیے انکریمنٹس روکنے کی سزا دی گئی۔
کانسٹیبل محمد شاکر، محمد آصف، محمد زاہد اقبال، مدثر سعید اور عدیل احمد کو اسی نوعیت کے الزامات پر ایک سال کے لیے انکریمنٹس کی بندش کی سزا سنائی گئی۔
وارننگ جاری
ٹیکنیکل اسسٹنٹ غلام خان کو سرکاری احکامات پر عمل درآمد میں ناکامی پر باضابطہ وارننگ جاری کی گئی۔
وزارتِ داخلہ کا دوٹوک پیغام
سینئر حکام کے مطابق اس احتسابی مہم کا مقصد ایف آئی اے میں شفافیت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی بحالی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ:
- غیرقانونی سرگرمیوں، بدعنوانی یا جرائم کی سہولت کاری میں ملوث اہلکاروں کو سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں گی، اور • محض غفلت، چاہے اس میں بدعنوانی ثابت نہ بھی ہو، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
یہ کارروائی وفاقی وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی اور سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) خرم آغا کے اس پختہ عزم کی مظہر ہے کہ کوئی عہدہ، رینک یا اثر و رسوخ قانون شکنی کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا، اور اسی عزم کے تحت ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کیا جائے گا۔