جماعت اسلامی نے بلدیاتی ایکٹ 2025 مسترد کر دیا

ننکانہ صاحب (حاجی زاہد جوئیہ) جماعت اسلامی پنجاب وسطی کے ڈپٹی سیکرٹری تحفہ دستگیر، جماعت اسلامی ضلع ننکانہ کے جنرل سیکرٹری ہمایوں محمود، کسان بورڈ ضلع ننکانہ کے صدر غلام مصطفیٰ سیان، اور جماعت اسلامی ضلع ننکانہ کے نائب امیر زاہد ندیم نے مشترکہ پریس ریلیز میں بلدیاتی ایکٹ 2025 کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاہ اور عوام دشمن قانون قرار دیا ہے۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ قانون اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے بیوروکریسی کو مزید طاقتور بناتا ہے، جس سے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق مجروح ہو رہے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو بے اختیار کر کے عوام کو نمائندگی کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جو آئین اور جمہوریت کے خلاف ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا، تاکہ عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ اس کے بعد پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ سمیت احتجاجی تحریک کو منظم کیا جائے گا، جس کا مقصد حکومت کو یہ قانون واپس لینے پر مجبور کرنا ہے۔جماعت اسلامی کی قیادت نے کسانوں، نوجوانوں، مزدوروں، اساتذہ، سول سوسائٹی اور دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاجی مہم میں بھرپور شرکت کریں اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔