ٹریفک چالان سے تابوت کا سفر ۔حکمرانوں کی بے حسی

دو ہزار روپے کا چالان، ایک ہارٹ اٹیک، ایک قیمتی جان ضائع
کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جانوں کی قیمت پر محض ریونیو مشین بنتے جا رہے ہیں؟
رانا تصدق حسین
چکوال: ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ایک بار پھر ٹریفک پولیس کے بے لگام، مشینی اور غیر انسانی طرزِ عمل کو بے نقاب کر گیا ہے، جہاں انسانی جان کے بجائے ریونیو اہداف کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
تقریباً دوپہر 1:30 بجے ون فائیو چوک، چکوال میں موٹر سائیکل سوار حاجی احمد سکنہ ڈھوک گوجر — جو کہ ریٹائرڈ پاکستان آرمی اہلکار تھے اور اس وقت سوئی گیس میں بطور پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ خدمات انجام دے رہے تھے- کو ٹریفک پولیس اہلکار شہباز نے روکا۔
عینی شاہدین کے مطابق حاجی احمد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس، مکمل گاڑی کے کاغذات موجود تھے اور وہ ہیلمٹ بھی پہنے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود محض اس بنیاد پر کہ موٹر سائیکل کی اگلی اور پچھلی نمبر پلیٹس کے رنگ مختلف تھے، انہیں دو ہزار روپے کا چالان تھما دیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اچانک چالان، سرِعام تضحیک اور سخت لہجے میں نفاذِ قانون نے شدید ذہنی دباؤ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں حاجی احمد کو موقع پر ہی دل کا دورہ پڑ گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ٹریفک اہلکار نے انہیں ایک رکشے میں ڈال کر اسپتال بھجوا دیا اور خود موقع سے غائب ہو گیا۔
بعد ازاں حاجی احمد اسپتال میں جانبر نہ ہو سکے۔
ان کی وفات کے بعد لواحقین نے شدید احتجاج کیا اور ٹریفک پولیس کو اس موت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ورثاء نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ:
مرحوم نے تمام قانونی تقاضے پورے کر رکھے تھے،
چالان ایک نہایت معمولی اور ظاہری نوعیت کے نکتے پر کیا گیا،
یہ واقعہ عوامی سہولت کے بجائے ہراسانی اور ریونیو پر مبنی پولیسنگ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ امر بھی ریکارڈ پر ہے کہ چکوال میں ٹریفک پولیس:
موٹر سائیکل سواروں کو معمولی تکنیکی نکات پر روکتی ہے،
صرف چالان کے اہداف پورے کرنے کے لیے شہریوں پر جھپٹتی ہے،
ایک ہی شہری کو مختلف ناکوں پر، ادائیگی کے باوجود، متعدد چالان کرتی ہے،
جس کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر تلخ کلامی اور جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔
میڈیا میں بارہا نشاندہی اور عوامی شکایات کے باوجود کوئی اصلاحی اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے خوف اور نفرت کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔
لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او چکوال:
شفاف اور مقررہ مدت میں انکوائری کا حکم دیں،
سرکاری زیادتی کے نتیجے میں ہونے والی موت کی ذمہ داری کا تعین کریں،
ٹریفک پولیس کو من مانے دو ہزار روپے کے چالان سے باز رہنے کی واضح تحریری ہدایات جاری کریں،
نفاذِ قانون میں انسانیت، صوابدید اور تناسب بحال کریں۔
یہ المناک موت ایک ناقابلِ تردید قومی سوال کو جنم دیتی ہے:
کیا ٹریفک قانون کا مقصد تحفظِ جان ہے یا عوام کی جیبوں سے پیسہ نکالنا؟
مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ سے پہلے ہی پسے ہوئے پاکستانی شہری کیا ایسے نظام کے متحمل ہو سکتے ہیں جو تضحیک، خوف اور جان لیوا ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دے؟
عوام کی نظریں اب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر (چیف آف ڈیفنس اسٹاف)، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پر لگی ہیں کہ وہ اس جاری تماشے کو روکے جائیں،
اس سے پہلے کہ ملک ایک ایسے پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہو جائے جہاں چالان انسانی جان سے زیادہ قیمتی بن جائیں۔