بری امام۔امیروں کے محل قائم غریبوں سے چھت چھین لی گئی ۔طیب گوندل کی رپورٹ

اسلام اباد( طیب گوندل) وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے علاقہ بری امام میں وزیر داخلہ محسن نقوی چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام اباد محمد علی رندھاوا اور ائی جی اسلام اباد علی ناصر رضوی نے انت مچا دی
ریاست کا کام ہوتا ہے شہریوں کو چھت فراہم کرنا
جبکہ ریاست پاکستان نے اس معاملے کی الٹی جانب چلتے ہوئے شہریوں سے چھت چھیننے کا کام شروع کر دیا
اس وقت تک ہزاروں شہری اسلام اباد کے علاقہ بری امام میں بے گھر کر دیے گئے ڈنڈے کے زور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا
اسلام اباد بننے سے پہلے کہ وہ مقامی افراد جو باپ دادا اور ان کی کئی نسلوں کی مقامی زمین ہونے کے باوجود
انہیں بغیر کسی معاوضے بغیر کسی اجرت کے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے
مقامی افراد نے بتایا کہ کچی بستیاں قائم کرنے والے وہ قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری اراضی پر قبضہ کیا اور جھوپڑ پٹی قائم کیے انہیں حکومت کی جانب سے اٹھانا ایک اچھا فیصلہ تھا کیونکہ انہیں ماضی میں اس کچی بستی کو خالی کرنے کے عوض معاوضہ بھی ادا کیا گیا تھا اور انہیں اراضی بھی دی گئی تھی
اب ان افراد کی اڑ میں جن کو ماضی میں حکومت نے قبضے کی جگہ واگزار کرنے کی مد میں معاوضہ ادا کیا تھا ان کی بستی خالی کروانے کی اڑ میں مقامی افراد کے گھروں کو نشانہ بنانا بدنیتی پر مبنی ہے
مقامی افراد نے بتایا کہ اپریشن کو لیڈ کرنے والی ڈاکٹر انم فاطمہ نازیبا زبان کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کی جانب سے دیا جانے والا ایوارڈ لسٹوں کا ریکارڈ پھاڑ کر انہیں گرفتار کروانے کی بھی کوشش کروا دیتی ہیں
جہاں ایک طرف مقامی اور کمزور طبقات کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے تو وہیں ذرائع سے ایک اور چیز سامنے ائی ہے کہ ائی جی اسلام اباد نے علاقہ بری امام اور اس علاقے میں جہاں اپریشن جاری ہے اور گھر گرائے جا رہے ہیں اس علاقے میں جو اسلام اباد پولیس سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار تھے جن کے گھروں کو مسمار کیا گیا ان پولیس اہلکاروں کے نام تھانہ سیکرٹیریٹ پر نوٹ کیے جا رہے ہیں اور ائی جی صاحب خصوصی طور پر اپنے پیٹی بھائیوں کو نواز رہے ہیں
اسلام اباد کے علاقہ مسلم کالونی میں جاری اپریشن کے دوران اسلام اباد پولیس کی ایک لیڈی کانسٹیبل جو کہ سپریم کورٹ ڈیوٹی پر مامور تھی اس کا گھر گرائے جانے کے بعد اس نے چوہا مار دوائی کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی جسے طبی امداد کے لیے پمز ہسپتال شفٹ کیا گیا تھا ذرائع نے دعوی کیا کہ ائی جی اسلام اباد نے خصوصی طور پر ہسپتال جا کر وزٹ کیا اور اس خاتون کو ایک فلیٹ تحفے میں دیا
ایک اور جانب ایک نیا واقعہ دیکھنے کو ملا کے جس میں اسلام اباد پولیس کا ایک حاضر سرونٹ ایس ایچ او نے تین برس پہلے عمران خان کے دور میں بری امام کچی بستی رینجرز ہیڈ کوارٹر سے 500 میٹر دور ایک کنال پر گھر بنایا اور تین برس بعد اس کے اس پاس کے تمام گھر مسمار ہو چکے ہیں جبکہ وہ گھر جو ایس ایچ او صاحب کا ہے وہ تاحال اپنی صحیح حالت میں موقع پر موجود ہے
جبکہ اس کے گھر کے باہر اسلام اباد پولیس کا سخت پہرہ ہے ایک تمبو جس میں اسلام اباد کی ڈائریکٹر انم فاطمہ بیٹھتی ہیں اور مقامی افراد نے بتایا کہ سامنے قیدی وین بھی کھڑی ہے اور طاقتوروں کے ساتھ دہرا معیار رکھنے کے معاملے پر احتجاج کرنے کی صورت میں شہریوں کو پولیس کی جانب سے ڈرانا دھمکانا مقدمات درج کرنا لاٹھی چارج جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں
نہ صرف ایس ایچ او کا ایک کنال پر موجود گھر صحیح حالت میں موجود ہے ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا کے ایس ایچ او کو سی ڈی اے کی جانب سے اس گھر کو تعمیر کرنے کا معاوضہ خالی کروانے کی صورت میں ادا کیا جائے گا
جبکہ اسلام اباد بننے سے پہلے کے مقامی وہ افراد جو مالکی حقوق رکھتے ہیں جو 1990 1980 اور 1950 سے پہلے کے وہ مقامی جو پاکستان بننے کے بعد اور اسلام اباد بننے سے پہلے کے یہاں مقیم تھے اور ان کے اباؤ اجداد کی جگہ تھی کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سی ڈی اے وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایماں پر ان سے مالکانہ حقوق ضبط کرنے کی زبردستی کوشش کر رہی ہے
مقامی افراد نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اس ظلم کے خلاف یونائٹڈ نیشن ہیومن رائٹس کی تنظیموں کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے
مقامی افراد نے مطالبہ کیا مالکانہ حقوق رکھنے والے افراد کے ساتھ یہ رویہ نہ رکھا جائے