65 ارب؟ اڈٹ رپورٹ سے این ایچ اے ہل گئی ۔رانا تصدق کی تہلکہ خیز رپورٹ

65 ارب روپے ڈوب گئے
پی اے سی آڈٹ، نیب اور فرانزک تحقیقات کا گھیرا تنگ — وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان اور غیرقانونی سیکریٹری علی شیر محسود کی برطرفی زیرِ غور-
ٹول چوری، ایف بی آر کی بےضبطگیاں، ڈیپوٹیشن مافیا اور میگا کرپشن اسکینڈلز؛ نقصان صرف غریب عوام اور ٹیکس دہندگان کا
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: – پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے مالی سال 2023–24 کے لیے پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں 65 ارب روپے سے زائد سڑک استعمال کرنے والوں کے پیسے بدانتظامی، دانستہ غفلت، کرپشن اور ادارہ جاتی قبضے کی نذر ہو گئے۔
پارلیمانی، آڈٹ اور تحقیقی ذرائع کے مطابق معاملہ اب محض آڈٹ اعتراضات تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان اور غیرقانونی طور پر تعینات آفیشیٹنگ سیکریٹری علی شیر محسود کی برطرفی پر بھی سنجیدہ غور جاری ہے، جبکہ پرانے اور نئے نیب ریفرنسز میں دونوں شخصیات کو براہِ راست میگا کرپشن اسکینڈلز سے جوڑا جا رہا ہے۔
ذرائع واضح کرتے ہیں کہ اصل نقصان ریاست کا نہیں بلکہ پاکستان کے غریب عوام اور عام ٹیکس دہندگان کا ہوا ہے۔
آڈٹ کے مطابق نقصان کہاں ہوا؟ (65 ارب سے زائد)
ٹول آمدن اور این ایچ اے واجبات کی عدم وصولی:
26 ارب 40 کروڑ روپے
اوورلوڈ گاڑیوں پر جرمانوں کی عدم وصولی:
16 ارب 74 کروڑ روپے
الیکٹرانک ٹول کلیکشن سسٹم میں بے ضابطگیاں:
12 ارب 20 کروڑ روپے
ڈیفالٹ کرنے والے کنٹریکٹرز کی پرفارمنس گارنٹیز ضبط نہ کرنا:
3 ارب 19 کروڑ روپے
ہکلہ–ڈی آئی خان موٹروے پر سروس ایریاز کی عدم تعمیر:
2 ارب 40 کروڑ روپے
ناقص کنٹریکٹ مینجمنٹ اور رسک کاسٹ کی عدم وصولی:
1 ارب 85 کروڑ روپے
رائٹ آف وے (ROW) واجبات کی عدم وصولی:
85 کروڑ 80 لاکھ روپے
پلوں کی تعمیر میں دوہری ادائیگیاں (گلگت):
65 کروڑ روپے سے زائد
غیر شفاف ٹینڈرنگ، بلاجواز سود، غیرقانونی موبلائزیشن ایڈوانسز، انشورنس پینل میں بے ضابطگیاں:
سینکڑوں ملین روپے
اسلام آباد–لاہور موٹروے (M-2) پر IRI ٹیسٹ نہ ہونا، گڑھے اور دراڑیں:
مسافروں کی جانیں خطرے میں
آڈیٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف قابلِ پیمائش نقصان ہیں، اصل مالی اور ادارہ جاتی تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے۔
ایف بی آر کی اربوں کی ضبطگیاں اور ریونیو مافیا
تحقیقات میں ایک نہایت سنگین پہلو سامنے آیا ہے کہ ایف بی آر افسران نے این ایچ اے کے سڑک اکاؤنٹس سے اربوں روپے ضبط کیے، جس سے شاہراہوں کی مرمت اور دیکھ بھال مفلوج ہو گئی۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ:
انہی ایف بی آر افسران کو جوڑ توڑ کے ذریعے این ایچ اے میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا
خاص طور پر ٹول پلازہ، وی اسٹیشن اور ریونیو سے متعلق حساس عہدوں پر
ذرائع کے مطابق:
ٹول پلازوں کو دانستہ کمزور کیا گیا
وی اسٹیشنز کو رشوت کے مراکز بنایا گیا
قانون نافذ کرنے میں منتخب نرمی برتی گئی
وصولیاں جان بوجھ کر دبائی گئیں
اسی لیے پی اے سی میں فرانزک آڈٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، جس میں:
ضبطگی سے پہلے اور بعد کے اکاؤنٹس
ٹول اور وی اسٹیشن ڈیٹا
ڈیپوٹیشن پوسٹنگز کی تاریخ
میگا کرپشن پیٹرنز
کا مکمل جائزہ شامل ہوگا۔
اصل ذمہ دار کون؟ — ڈیپوٹیشن زدہ قیادت
پارلیمانی و آڈٹ ذرائع متفق ہیں کہ اس تباہی کی بنیادی ذمہ داری:
ڈیپوٹیشن پر تعینات چیئرمین این ایچ اے
ممبر فنانس
ممبر ایڈمنسٹریشن
پر عائد ہوتی ہے۔
مستقل اور تجربہ کار این ایچ اے افسران کو نظرانداز کر کے ادارہ باہر سے لائے گئے افسران کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے:
وصولیاں نرم کر دیں
نادہندگان کو تحفظ دیا
آڈٹ اعتراضات نظرانداز کیے
مبینہ کرپٹ خوشامدیوں کے ذریعے ادارہ چلایا
یہ کرپشن، بدانتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی غیر مکمل فہرست ہے۔
وزیر اور سیکریٹری کٹہرے میں — برطرفی زیرِ غور
ذرائع کے مطابق:
وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان
غیرقانونی آفیشیٹنگ سیکریٹری علی شیر محسود
کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جن کے خلاف:
پرانے نیب ریفرنسز
موجودہ آڈٹ بے ضابطگیاں
این ایچ اے پر ڈیپوٹیشن مافیا مسلط کرنے کے الزامات
ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔
پی اے سی حلقوں میں واضح رائے ہے کہ ان کی موجودگی شفاف تحقیقات میں رکاوٹ ہے، اسی لیے برطرفی کو احتساب کی شرط سمجھا جا رہا ہے۔
اہم وضاحت
این ایچ اے کے دائرہ اختیار سے باہر سڑک فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے معاملات اس آڈٹ ایجنڈے میں شامل نہیں، تاہم ان پر الگ سے نیب اور ایف آئی اے کو ریفرنسز متوقع ہیں۔
تازہ سیاسی پیش رفت
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وزارتِ مواصلات کے رویے پر استحقاق کی تحریک پیش کی، جسے پارلیمان کی جانب سے آخری وارننگ قرار دیا جا رہا ہے۔
حقیقی متاثر کون؟
ہر چوری شدہ ٹول، ہر ٹوٹی سڑک، ہر حادثہ —
پاکستان کا غریب شہری اور ایماندار ٹیکس دہندہ۔
آڈیٹرز اور اراکینِ پارلیمان خبردار کر رہے ہیں کہ:
جب تک وزیر اور سیکریٹری کو ہٹایا نہیں جاتا، ڈیپوٹیشن سسٹم توڑا نہیں جاتا، ایف بی آر اور ٹول ریونیو کا فرانزک آڈٹ نہیں ہوتا اور مجرمانہ احتساب یقینی نہیں بنتا — سڑک استعمال کرنے والوں کی لوٹ مار جاری رہے گی۔