پنجاب میں دو لیڈیز چیف امنے سامنے ۔ایم اے شام کی تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام اباد( ایم اے شام )پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں دو لیڈی چیف أمنے سامنے دونوں میں سے ایک لیڈی چیف منسٹر پنجاب مریم نواز ہیں جن کی حتی الوسع کوشش ہے کہ عوام کو جلد سے جلد ریلیف دیا جا سکے جس کے لیے انہوں نے پنجاب اسمبلی سے قبضہ مافیا کے خلاف قانون پاس کروایا کچھ ہی عرصہ میں غریب لوگوں کی زمینوں۔ پلاٹوں اور گھروں پر ناجائز قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی شروع کرتے ہوئے لوگوں کو انصاف ان کی دہلیز پر پہنچانا شروع کر دیا اس کے علاوہ بھی مریم نواز نے پنجاب میں وہ وہ کام کیے ہیں جس کی عوام کو انتہائی شدید ضرورت تھی سی سی ڈی کی ایک مثال سب کے سامنے ہے یہی وجہ ہے پنجاب کے عوام مریم نواز کے انقلابی اقدامات سے انتہائی خوش دکھائی دیتے ہیں قبضہ مافیا کے خلاف قانون پاس کروانے کے بعد مریم نواز اور ان کی ٹیم نے ایک قلیل عرصہ میں پانچ ہزار سے زائد زمین و پلاٹوں اور گھروں پر ناجائز قبضوں کو ختم کروا کے ان کی جائیدادوں کو اصل مال کان کے حوالے کیا جبکہ اس کے برعکس دوسری لیڈی چیف جسٹس اف لاہور ہائی کورٹ نیلم منیر ہیں جو اسے عدلیہ کا حق قرار دیتے ہوئے زمینوں پر قبضوں کو عدلیہ کے ذریعہ حل کروانا چاہتی ہیں وہ بھی اس عدلیہ کے ذریعے جو کہ دنیا بھر میں انصاف فراہم کرنے کے معاملے میں 139 ویں نمبر پر ہیں اور ان سے یہ کام 75 سالوں میں اج تک نہیں ہو سکا ہے مثال کے طور پر اپنی زمین کے حق کے لیے باپ کیس عدالت میں دائر کرتا ہے اور وہ عدالتوں کے چکر لگا لگا کر اپنی زندگی پورے ہونے پر اسی مٹی میں جاسو تا ہے جہاں سے اس کی پیدائش ہوئی تھی پھر اگلے مرحلے میں اس کا بیٹا میدان میں ا جاتا ہے اسے بھی حق نہیں ملتا اس طرح یہ سلسلہ یہ عدالتی تاریخیں نسل در نسل چلتی رہتی ہیں ہر تاریخ پہ وکیل اس کے منشیوں کے فوائد معزز عدالت کے ریڈر جو کہ نہ صرف تاریخ ڈالنے کے بھی پیسے لیتے ہیں ان کا دھندہ چلتا رہتا ہے اور پھر ہر تاریخ پر وکیل کے منشی کو بھی خوش کرنا بڑا ضروری ہوتا ہے دونوں لیڈیز چیف میں ایک خاتون وہ ہیں جو لوگوں کو فوری ان کا حق دلوانا چاہتی ہیں دوسری خاتون چیف وہ ہیں اپنے عدالتی نظام کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی بضد ہیں کہ اشرافیہ کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام کو صرف عدلیہ کے ذریعے ہی انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے دونوں لیڈیز چیف میں کون سچا ہے کون جھوٹا ہے فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں