گداگری مکروہ دھندہ اور سماجی بیماری

ننکانہ صاحب (مرزا ناصر بیگ بیورو رپورٹ) گداگری ایک مکروہ دھندہ اور سماجی بیماری ہے کے موضوع پر ایک سیمینار شہری اجتعماعی ترقیاتی کونسل۔ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کمیونٹی ڈویلپمنٹ ننکانہ صاحب کے زیر انتظامی مقامی حال میں منعقد کیا گیا۔جس میں مختلف طبقات کے لوگ جیسےسماجی تنظیموں کے لوگ سپیشل برانچ ٹریفک پولیس وکلاء کے نمائنگان نے شرکت کی اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان میں گداگری کس عروج پر پہنچ کر چکی ہے یہ گداگار معاشرے میں ایک کلنک کا ٹیکے کی مانند ہے ملک بھر میں گداگر منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں کی روک تھام بہت ضروری ہے معاشرے کے ہر شخص کو ان کی روک تھام کرنے کے لیے حکومت پنجاب کا ساتھ دینا ہوگا ان کی وجہ سے بہت سارے جرائم سر اٹھا چکے ہیں مقرری نے اپنے تجربات سے انے والے مہمانوں اور سامعین کو بتایا کہ کس طرح اس کی روک تھام کی جا سکتی ہے یہ مکروہ دندا معاشرے میں ناسور بنتا جا رہا ہے ایک گدا گھر کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اس دندا کو چھوڑے جب تک کہ ہم جو ان پر ترس کھا کر اس کو بھیک دے دیتے ہیں نہ چاہیں سوشل ویلفیئر کے ادارے نے بتایا کہ حکومت پاکستان اس مقرود اندے کو روکنے کے لیے مثبت انداز میں قانون سازی کر رہی ہے جس پر بہت جلدی سے عمل درامد شروع ہو جائے گا لیکن اس کو روکنے کے لیے ہم سب کو گری کی مذمت کرنی ہوگی ہمیں چاہیے سب سے پہلے اپنے رشتہ دار اور قریبی ضرورت مندوں کی مدد کریں اگر اپ اور ہم ملک اور معاشرے کو بہتر لائن پر لگانا چاہتے ہیں تو ہمیں سب کو مل کر ایک دوسرے کی تعاون سے گداگری کی لعنت کو ختم کرنا ہوگا سمینار کے آخر میں اگاھی واک بھی کی گئ

اپنا تبصرہ بھیجیں