نوشہرہ فیروز پولیس کی میابیوی سے بدمعاشی

قصور (کرائم رپورٹر)ضلع قصور سے تعلق رکھنے والا ایک میاں بیوی کا جوڑا سیہون شریف کی زیارت کے لیے روانہ تھا۔ سفر کے دوران راستے میں بھوک کی شدت نے انہیں تھکا دیا، جس پر وہ ایک مقام پر رُکے اور کھانے کے لیے گاڑی سے اترے۔ کھانے کے بعد وہ دوسری سواری کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔
اسی دوران نوشہرو فیروز پولیس کے چند اہلکار وہاں سے گزرے۔ انہوں نے مشکوک نظروں سے جوڑے سے پوچھ گچھ شروع کی۔ اطلاعات کے مطابق دورانِ تفتیش پولیس اہلکاروں نے خاتون سے نازیبا رویہ اختیار کیا، جس پر اُس کے شوہر نے احتجاج کیا اور پولیس کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ بات پولیس کو ناگوار گزری اور انہوں نے طیش میں آ کر دونوں میاں بیوی کو زبردستی پولیس وین میں بٹھایا اور تھانے منتقل کر دیا۔
مزید الزام یہ ہے کہ تھانے میں خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی، اور جب اس نے آواز بلند کی تو پولیس نے ان کے بیگ میں شراب کی بوتلیں رکھ کر جھوٹا الزام عائد کر دیا کہ ان کے قبضے سے ممنوعہ اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ خاتون کے شوہر کو موقع پر ہی ہتھکڑیاں لگا کر حوالات میں بند کر دیا گیا۔
یہ واقعہ پولیس کے اختیارات کے ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی علامت ہے۔