لڑکے لڑکی کا بغیر نکاح اکٹھے رہنا معاشرے کیلئے خطرہ

اسلام آباد ( رپورٹ:،رانامسعود حسین)
سپریم کورٹ کے جج ، جسٹس علی باقر نجفی نے قراردیاہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح کے بغیر ایک ساتھ ،ایک ہی گھر کے اندر رہنے(living relationship) کاتصور پاکستانی معاشرہ کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے ،جونہ صرف سماجی بگاڑ کا سبب بنتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے،نور مقدم قتل کیس اس کی ایک بھیانک مثال ہے جو نوجوان نسل کے لیے انتہائی سبق آموزبھی ہے ،وفاقی دارالحکومت میں کے ایک پوش علاقہ میں رہائش پزیر مجرم ظاہر جعفر کے ہاتھوں اس کی دوست نور مقدم کے اغواء ، ریپ و قتل کے مقدمہ میںظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد ہونے سے متعلق جسٹس علی باقر نجفی کا سات صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے،جس میں جسٹس علی باقر نجفی نے قراردیاہے کہ وہ بنچ کے اکثریتی ممبران کے فیصلہ سے متفق ہیں، تاہم کچھ مزید قانونی اور سماجی وجوہات بیان کرنا ضروری سمجھتے ہوئے یہ اضافی نوٹ قلمبند کررہے ہیں ، فاضل جج نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا ہے کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف تمام تر شواہد واضح طور پر عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہیں، یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قتل کی دفعات کے تحت مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی تھی، جبکہ ریپ کے مقدمے میں سزا کو کم کرکے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اغواء کے مقدمہ میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کردیا تھا جبکہ مقتولہ نور مقدم کے اہلخانہ کو معاوضہ کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھا ،عدالت نے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا،یہ بھی یاد رہے کہ مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے اس فیصلہ کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست سپریم کوٹ میں زیر التواء ہے۔