کانوں کا کچا۔توہم پرست حکمران اور نواز شریف کے خلاف سازش ایم اے شام کا کالم 

تقریبا 12 سال قبل جب میاں محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو چند ہی مہینوں بعد عمران ریاض جیسے ٹوٹ صافیوں کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے فائلیں دکھانا شروع کر دی تھی کہ نواز شریف کرپٹ ہے 2014 کا دھرنا بھی اسی سازش کا حصہ تھا اور اسی قسم کے ٹاؤٹ صحافی دوستوں کی محفلوں میں  پہلے تو مارشل لگانے کی باتیں کرتے تھے اور ہر ایک دوست کو یہی باور کرایا جاتا تھا کہ چند دنوں میں حکومت جانے والی ہے اور ایک قومی حکومت تشکیل پانے والی ہے یہاں تک کہ اسی قسم کے بعض صحافیوں نے تو کئی لوگوں سے لاکھوں روپے بھی پکڑ لیے تھے کہ انہیں صوبائی وفاقی منسٹر یا سینٹر بنایا جائے گا ۔جس کے ثبوت بھی دیے جا سکتے ہیں ۔یعنی میاں نواز شریف کو گھر بھیجنے کی اس قدر منظم سازش کی گئی تھی کہ سازشی اخر کار کامیاب ہو ہی گئے سازشیوں  نے بغض نواز شریف میں ملک کا بھی نہیں سوچا اور اخر کار بوجھل دل سے نواز شریف کو  اس وقت کی عدلیہ کے ایک وار سے گھر بھیج دیا گیا  2018 کے عام انتخابات میں جس طرح جنرل فیض حمید جوڑ توڑ کر رہے تھے نون لیگ کے امیدواروں کو نہ صرف پریکٹیکلی مارا جاتا تھا بلکہ اج کی سی سی ڈی پنجاب کی طرح باقاعدہ ان سے ویڈیو بیان لے کر نشر کروائے جاتے تھے کہ انہیں محکمہ زراعت کے افسران نے مارا ہے پورا ملک جانتا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات جنرل فیض حمید جنرل باجوہ کے حکم پر بالخصوص سیاسی جماعت نون لیگ پر جس طرح کہ ظلم ڈھا رہے تھے صاف واضح تھا کہ وہ عمران خان کو برسر اقتدار لانا چاہتے ہیں عمران خان کو وزیراعظم بنائے جانے کی خبر ایک جھگی نشین سے لے کر عالی شان محلوں میں رہنے والے سب جانتے تھے ۔اگر کوئی بے خبر تھا تو وہ بذات خود عمران خان تھا کیونکے اس کے دماغ پر اس کی پیر نی چھائی ہوئی تھی وہ اپنی جادوئی حرکتوں سے اسے رات دن باور کراتی تھی کہ تم یہ کرو گے تو وزیراعظم بنو گے تم وہ کرو گے تو وزیراعظم بنو گے یہاں تک کہ اس کی پیرنی نے عمران خان کے واش روم جانے کے اوقات بھی مقرر کر رکھے تھے اور وہ باقاعدہ اسے ہدایت جاری کرتی تھی کہ تم نے ان اوقات میں چاہے کچھ بھی ہو جائے واش روم میں نہیں جانا اسی طرح ان کے کپڑوں کی سلیکشن جوتوں کی سلیکشن لوگوں سے ملاقاتوں کی سلیکشن سب کچھ نام نہاد عملیات کے ذریعے ہی ہو رہا تھا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ بشرہ پیرنی نے عمران خان کو ہیپناٹائزم کر رکھا تھا تو بے جانا ہوگا یہاں تک کہ عمران خان نے کیا کھانا ہے کیا پینا ہے وہ بھی بشری پیر نی ہی طے کرتی تھی عمران خان کو صرف یہی بتایا جاتا تھا کہ یہ اپ کریں گے تو اقتدار میں ائیں گے ۔اقتدار میں انے کے بعد پرائم منسٹر سیکریٹ میں جانے کے اوقات کار اور وہاں کتنی دیر رہنا ہے یہ سب بشر پیرنی کے اشاروں سے ہی ہو رہا تھا کانوں کا اتنا کچا عمران کے اپنی قریبی دوستوں تک کو چھوڑ دیا اور اس کی ساری ڈوریں پنکی پیر نی ہی ہلا رہی تھی پنکی پیرنی ڈائن کا ایجنڈا صرف اور صرف دولت اور اقتدار کے نشے لوٹنا تھا ۔اکانو مسٹ نے جو  سٹوری شائع کی ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ساری چیزیں نہ صرف بنی گالہ انے جانے والوں کو پتہ تھی بلکہ ملک کا شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان سب جادو ٹونوں کے بارے میں نہ جانتا ہو البتہ ۔یوتھیا ٹائپ قسم کے کچھ لوگ واقعی بے خبر ٹھے اکانو مسٹ کی خبر کو پاکستانی اور دوسرے انٹرنیشنل میڈیا نے محض اس لیے اہمیت دی کہ وہ ایک مستند جریدہ ہے باقی جو باتیں اس نے اپنی سٹوری میں شائع کی ہیں وہ تو پاکستان کا بچہ بچہ کئی سالوں سے جانتا ہے ۔اکانو مسٹ نے کوئی تیر نہیں مارا ۔ٹھیک ہے شادی کرنا عمران کا حق تھا لیکن جس طرح سے اور جس عورت سے یہ شادی انجام پائی چلیں مان لیا جائے کہ وہ بھی ٹھیک تھا کیوں کہ جب دونوں فریق راضی ہوں تو اس میں تیسرا کوئی کچھ نہیں کر سکتا ماضی میں بھی مسلمان بادشاہوں نے پسند کی شادیاں تو ضرور کیں مگر چند ایک کے سوا تمام بادشاہوں نے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کو اقتدار سے دور رکھا کیونکہ وہ کانوں کے کچے نہیں تھے مورخ ضرور لکھے گا کہ ایک ایٹمی طاقت طاقت رکھنے والے ملک پاکستان کا   حکمران  ایسا بھی گزرا ہے جو اپنی بیوی کے بتائے ہوئے جھوٹے عملیات کی روشنی میں فیصلے کرتا تھا اور محض اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے اپنی بیوی کے اشاروں پر ناچتا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں