کالے اور چھوٹے۔ تنویر حسن کا کالم

کئی برس پہلے کی بات ہے میں جس اخبار کے دفتر میں کام کرتا تھا اس میں ایک نائب قاصد(جسے اب ٹی بوائے بھی کہتے ہیں)تھا میں جب پہلے روز دفتر پہنچا تو مجھے اپنے قلم کے لیے سیاسی کی ضرورت پڑی میں نے اپنے نئے کولیگ سے پوچھا نائب قاصد کہاں گیا ہے وہ بولے میں اسے بلاتا ہوں پھر انہوں نے با آواز بلند کہا اوئے کالے ادھر آ میں نے دیکھا ایک سولہ سترہ سال کا نوجوان اپنے ہم رنگ لباس مطلب سیاہ شلوار قمیض پہنے نمودار ہوا میں نے کہا سیاہی لے آؤ اس نے تھوڑی دیر بعد سیاہی کی بوتل میرے سامنے رکھ دی دراصل میں اس صورت حال سے غیر مطمئن تھا کیونکہ میں کسی بھی شخص کی ظاہری وضع قطع کے لحاظ سے اسے مخاطب کرنے کا قائل نہیں ہوں کیونکہ اس کا جثہ یا رنگت اس کے اختیار میں نہیں ۔ ایک دن میں نے اسے اس کے اصل نام سے پکارا تو وہ ہکا بکا رہ گیا کہنے لگا سر مجھےاس دفتر میں سب کالے کے نام سے پکارتے ہیں آپ مجھے میرے نام سے بلایا ہے مجھے اب اپنے نام سے زیادہ کالے کا لفظ زیادہ یاد رہتا ہے آپ مجھے کالے کے نام سے پکارا کریں مہربانی ہوگی میں نے کہا نوجوان تم عجیب بات کررہے ہو تمہیں اپنے نام سے پکارا جانا کیوں پسند نہیں ویسے یہ بتاؤ تمہیں سب سے پہلے کالا کس نے پکارا تھا اس نے کہا آپ ہی کی سیٹ پر ایک صاحب آئے تھے انہوں نے مجھے سب سے پہلے کالا کہا تھا وہ تو چند روز ادھر رہنے کے بعد چلے گئے لیکن ان کی دیکھا دیکھی سب مجھے کالا کہتے ہیں میں نے کہا تم نے کسی سے نہیں کہا کہ اسے اس نک نیم کی بجائے اصل نام سے مخاطب کریں وہ کہنے لگا کوئی فائدہ نہیں جناب اب میں کالا ہی ہوں ویسے بھی میری رنگت بھی کالی ہے اس لیے مجھے برا نہیں لگتا میں آج تک اس کی اس منطق کو سمجھ نہیں پایا۔اسی طرح اگر آپ کسی موٹر مکینک کی ورکشاپ پر جائیں تو آپ کو بے شمار چھوٹے دائیں بائیں دیکھنے کو ملیں گے آپ بھی ان کو چھوٹا بلائیں تو یہ مائنڈ نہیں کریں گے بلکہ آپ کے حکم کی تعمیل میں لگ جائیں گے لوگ ان کا نام نہیں جانتے یہ سب کے لیے چھوٹے ہیں شاید چھوٹے بھی انہیں چھوٹا کہہ کر بلاتے ہیں یہ بھی میرے دفتر کے نائب قاصد کی طرح دل سے یہ مان چکے ہیں ان کے اصل نام عبث ان کے والدین نے ان کی پیدائش کے بعد رکھے تھے وہ اب وہی ہیں جیسا لوگ انہیں سمجھتے ہیں یہ سب اس لئے ہے کہ ہم من حیث القوم سب تسلیم کرنے کے عادی ہیں سوال نہیں کرتے کیونکہ سوال وہ کرتا ہے جو اپنے اردگرد چیزوں کو ویسے نہیں چھوڑنا چاہتا جیسی اس کو ورثے میں ملی تھیں سوچئے ہم بھی کہیں کالے یا چھوٹے بن کر تو نہیں زندگی گزار رہےاور اگر آپ لوگ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ساری زندگی کالے موٹے چھوٹے اور نکے سمیت دیگر ناموں سے پکارے جائیں گے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں