امریکی پادری کی بچی سے بد اخلاقی 45 سال بعد سزا

اسلام اباد (خصوصی رپورٹ ث)ڈونلڈ ٹرمپ کے روحانی مشیر اور معروف میگا چرچ کے بانی پادری رابرٹ مورس نے 12 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کر لیا،
عدالت نے 6 ماہ کی سزا اور متاثرہ لیڈی کو اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم سنا دیا
عدالت میں مورس نے متعدد سنگین الزامات کا اعتراف کیا تھا، جن میں بچی کو اپنے گھر بلانا، اعتماد میں لے کر اسے ہراساں کرنا اور مسلسل زیادتی شامل تھی۔
پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعات 1980 کی دہائی میں پیش آئے، تاہم متاثرہ خاتون نے ہمت کرتے ہوئے حال ہی میں سامنے آکر انصاف کی جنگ لڑی۔
سزا سنائے جانے کے بعد متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ ایک اہم قدم ہے، لیکن چھ ماہ کی سزا اس جرم کی سنگینی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بہت سے قانونی ماہرین اور سماجی کارکنوں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنگین جرائم میں پلی ڈیل کے ذریعے اس قدر نرمی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق مورس کو جنسی مجرم کے طور پر رجسٹر ہونا ہوگا اور رہائی کے بعد سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم عوامی غصہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایک بچی کے ساتھ زیادتی جیسے جرم پر دی گئی سزا مثالی یا روک تھام کے مقصد کو پورا نہیں کرتی۔