اسلام اباد خودکش حملہ اور کب کب پاکستان عابد منہاس نے سب بتا دیا ہے

اسلام آباد(عابدمنھاس)
خود کش بمبار سال 2024 اور 2025 کے دوران متعدد بار افغانستان سے پاکستان آیا،
خود کش بمبار ایک بار ویزا پر بھی پاکستان آچکا ہے، حملہ اور کو کمرہ کرائے پر دینے والا سہولت کار بھی گرفتار کر لیا گیا، بمبار کو کرائے پر ملنے والے کمرے کا مالک بھی گرفتار کر لیا گیا، بمبار 23 دن پہلے ڈھوک پراچہ اپنے ساتھی کے ساتھ آیا تھا
حملہ اور کو ملنے والا گھر ایک خاتون کو فروخت کر دیا تھا، مالک مکان کا بیان
مکان کی فروخت کے حوالے سے کوئی بھی ایگریمنٹ نہیں ہوا تھا،
خودکش بمبار اسلام آباد کے سیکٹر جی 15 میں بھی ساتھی کے ہمراہ آیا تھا، تحقیقات
ضلع کچہری حملے کے ماسٹر مائنڈ کی بھی نشاندہی کر لی گئی
جوڈیشل کمپلیکس جی الیون اسلام آباد دھماکے میں ملوث خودکش بمبار کے معاون دہشت گرد گرفتار کرلئے گئے
ٹی ٹی پی / فتنہ الخوارج کے کمانڈر سعید الرحمن عرف ”داد اللہ“ نے ٹٓیلی گرام ایپ کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے کی ہدایت کی
دوران تفتیش خودکش حملہ آور کے ہینڈلر ساجد اللہ عرف ”شینا“ کا اعتراف
سعید الرحمان عرف داد اکبر چرمکنگ، باجوڑ، حال افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف نواگئی، باجوڑ ہے
داد اللہ نے ساجد الله عرف ”شینا“ کو خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کی تصاویر بھیجیں تا کہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے۔
خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ اچین، نگرہار، افغانستان کا رہائشی تھا۔
خودکش بمبار افغانستان سے پاکستان پہنچا تو ساجد الله عرف ”شینا“ نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا
داد الله کی ہدایت پر ساجد الله عرف ”شینا“ نے اکھن بابا قبرستان پشاور سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد پہنچایا۔
دھماکے کے روز ساجد الله نے خودکش بمبار عثمان عرف ”قاری“ کو خودکش جیکٹ پہنائی۔