اسلام اباد  خواتین کے تحفظ کی صورتحال تشویش ناک SSDO

اسلام آباد (کرائم رپورٹر ) سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) نے خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اپنی تازہ فیکٹ شیٹ جاری کر دی ہے جو کہ جنوری تا جون 2025 کے عرصے پر مشتمل ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے معلومات کے حق (RTI) کے تحت حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین کے تحفظ کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں خواتین پر تشدد کے 373 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم کسی ایک کیس میں بھی سزا نہیں ہوئی۔

کل رپورٹ شدہ کیسز میں سے 309 کیسز زیادتی اور اغوا کی مشترکہ کیٹیگری میں درج ہوئے، جو مجموعی واقعات کا تقریباً 83 فیصد ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود کسی بھی کیس میں سزا نہیں ہوئی، جبکہ متعدد کیسز کارروائی مکمل ہونے سے قبل ہی واپس لے لیے گئے۔ جسمانی تشدد کے 42 کیسز (11%) رپورٹ ہوئے، لیکن ان میں بھی کوئی سزا ریکارڈ نہیں کی گئی۔ ہراسانی کے 17، سائبر کرائم کے 3 اور غیرت کے نام پر قتل کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ، تمام میں سزا کی شرح صفر رہی۔

فیکٹ شیٹ کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ تحقیقات اور پراسیکیوشن کے عمل میں سنگین نظامی خامیاں موجود ہیں۔ رپورٹ شدہ واقعات کے باوجود کسی بھی مقدمے میں سزا نہ ہونا، ثبوت کے ناقص معیار، متاثرہ خواتین کے تحفظ میں کمی اور عدالتی نظام کی سستی کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں