سی ڈی اے ۔افسران کئ دہائیوں سے ایک ہی شعبے میں

اسلام آباد)راجہ اسرار حسین سے(سی ڈی اے /ایم سی آئی میں بڑے پیمانے پر گریڈ 19 اور گریڈ 18 کے افسران کے تبادلے و تقرریاں جبکہ چئیرمین آفس میں 20 سے 25 سالوں سے غیر قانونی تعینات افسران و ماتحتوں کے خلاف تاحال کوئی کاروائی نہیں ہو سکی؟روٹیشن پالیسی کہاں ہے؟ روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد کرانے کا ذمہ دار کون ہے؟
مختلف ڈائریکٹوریٹ و ونگز کے 42 افسران تبدیل کر دئیے گئے
ایچ آرڈی نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔دوسری جانب چئیرمین آفس میں 20 سے 25 سالوں غیر قانونی تعینات افسران و ماتحتوں کے خلاف تاحال کوئی کاروائی نہیں کی جاسکی جو سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں مافیا کا روپ دھار چکے ہیں جو روٹیشن پالیسی کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تاحال عہدوں پر براجمان ہیں آخر چئیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا اور ممبر ایڈمنسٹریشن طلعت محمود گوندل اس مافیا کے آگے کیوں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں کیا یہ مافیا چئیرمین پر بھی اثر انداز ہو چکا ہے؟اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نوٹس لے کر روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد کرانے کی استدعا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں