دو پاگلوں میں کیا کر رہا ہوں ۔محمد تنویر حسن کا کالم

دو ذہنی مریضوں میں!
کیا تمہیں کبھی میری باتوں سے ایسا محسوس ہوا ہے کہ میں نفسیاتی مریض ہوں ؟میرے دوست نے یکایک سوال داغ دیا میں نے ہڑبڑا کر جواب دیا نہیں تمہیں یہ سوال پوچھنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی اس نے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کا لمبا کش لیا اور کہا میں کچھ دنوں سے عجیب ذہنی کیفیت سے دوچار ہوں مجھے اپنے علاوہ تمام لوگ کم تر محسوس ہوتے ہیں میں ان کی کسی بھی اعلیٰ خوبی کو بھی وہ مقام نہیں دے پاتا جو ان کا حق بنتا ہے حتیٰ کہ تم میرے پرانے دوست ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اچھے لکھاری بھی ہو میں تمہاری تحریریں شوق سے پڑھتا ہوں پھر اس نے دوسرا تگڑا کش لیتے ہوئے کہا شاید میرا یہ جملہ تمہیں اچھا نہ لگے لیکن میں دل سے تمہاری تعریف نہیں کر سکتا میں نے کہا کوئی بات نہیں تم ٹینشن نہ لو بس تم میری تحریر پڑھنے کے لئے وقت نکالتے ہو یہی کافی ہے وہ بولا نہیں یہ صرف تہماری بات نہیں ہے میں تمہیں بتاؤں ایک بار مجھے ایک مشاعرے میں مدعو کیا گیا میں نے جاتے ہی نقیب سے کہا کہ میں ایک سینئر شاعر ہوں اور میں بہت کم مشاعروں میں جاتا ہوں لیکن اس مشاعرے میں اس لئے آگیا ہوں کہ اس کا میزبان میرا کالج فیلو ہے ورنہ میں کبھی نہ آتا لہذا آپ نے مجھے بحیثیت سینیئر شاعر آخر میں دعوت سخن دینی ہے میں نے پوچھا پھر کیا ہوا کہنے لگا پھر کیا تھا اس ڈھیٹ انسان نے مجھے جونیئر شاعر سے پہلے بلا لیا میں نے سٹیج پر جاکر سب کو کھری کھری سنا دیں اور احتجاجاً سٹیج سے اتر آیا اس کے بعد کئی لوگ مجھے منانے ہال سے باہر تک آئے لیکن میں نے ان کی ایک نہ سنی کیونکہ وہاں جتنے بھی شاعر موجود تھے وہ میرے برابر توکیا میرے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے تھے میں نے کہا یہ مسئلہ تمہیں کب سے درپیش ہے وہ بولا ایک عرصے سے ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ کچھ دوستوں نے میرے ساتھ شہر کے اچھے اور مہنگے ہوٹلوں میں شام پزیرائی کی تقاریب پے در پے برپا کیں مجھے لگتا ہے یہ ان ہی کے سائیڈ ایفیکٹ ہیں کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں سب سے ذہین اور فطین انسان ہوں اور میں جاہلوں کے ہجوم میں پھنس گیا ہوں یوں لگتا ہے میں کسی غلط زمانے میں پیدا ہوگیا ہوں اور تو اور مجھے لوگوں کے بے ڈھنگے لباس بھی سخت ذہنی اذیت دیتے ہیں کئی بار میں خود پر ضبط نہیں کرسکتا اور راہ چلتے لوگوں کو کہہ دیتا ہوں یار پینٹ شرٹ پہننے کا شوق ہے تو کلر میچنگ یا کنٹراسٹ ہی دیکھ لیا کرو میں نے اس کی باتیں سن کر محسوس کیا کہ یہ واقعی ذہنی مریض ہے لہذا میں نے اسے تجویز دی کہ اب تم کسی اللہ والے کی مجلس اختیار کرو جو تمہیں کسر نفسی کی تعلیم دے اور ساتھ ساتھ کسی اچھے ماہر نفسیات سے بھی رجوع کرو تاکہ وہ کچھ ادویات سے تمہارا علاج کرسکے اس نے ایک لمبا سانس لے کر کہا ٹھیک ہے پہلا کام تو بعد میں کروں گا لیکن میں نے ایک ماہر نفسیات سے آج کا ٹائم لے رکھا ہے اچھا ہوگا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو میری ساری کیفیت ڈاکٹر کو بتانا میں نے کہا کیوں نہیں سو ہم جب ماہر نفسیات کے کلینک پر پہنچے تو وہاں مریض بہت کم تعداد میں تھے لہذا تھوڑی دیر کے بعد کلینک کے کاؤنٹر پر موجود شخص نے ہمیں اندر جانے کا کہا جب ہم کمرے میں پہنچے تو میں نے دیکھا ناک کے عین درمیان میں عینک رکھے ماہر نفسیات نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا آپ دونوں میں سے مریض کون ہے میں نے اپنے دوست کی جانب اشارہ کیا اس پر وہ بولا ذرا جلدی سے اپنا مسئلہ بتائیں کیونکہ میں کوئی عام ماہر نفسیات نہیں ہوں کہ تھوڑی سی فیس کے عوض گھنٹوں آپ مجھے کہانیاں سناتے رہیں یہ سن کر میں نے اپنے دوست کی جانب اور پھر ماہر نفسیات کی جانب دیکھا اور پھر میں نے سوچا میں بھلا ان دو مریضوں میں کیا کررہا ہوں ۔