این سی سی ائی کے 9 افسران کے خلاف ایف ائی ار درج

اسلام آباد(عابدمنہاس) ایف آئی اے نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کرپشن کے الزام میں ملوث ایک فرنٹ مین سمیت ،نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے 9افسروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے چھ کا عدالت سے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے ۔ خفیہ تفتیش کے بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن لاہور نے ملزموں کے خلاف 109 /161ت پ اور اینٹی کرپشن دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ،ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبی ظفر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، سب انسپکٹر یاسر رمضان اور سب انسپکٹر علی رضا کو گرفتار کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے ۔ مقدمہ میں نامزد ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن ہیڈ کوارٹر اسلام آباد محمد عثمان ، ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد ایاز خان کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا ہے ۔ فرنٹ مین سلمان عزیز کی نہ تو گرفتاری ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی اس کا جسمانی ریمانڈ لیا گیاہے ۔سائبر کرائم ایجنسی کے ان افسروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ملزم سے 90 لاکھ روپے رشوت لی اور 9کروڑ روپے مالیت کے تین لاکھ 26 ہزار 420 ڈالرز اس کے اکاؤنٹ سے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لئے ۔ حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل وقار الدین سید کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے،پولیس سروس کے گریڈ 20 کے اس افسر او ایس ڈی بنا کر فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ ان کی جگہ سید خرم علی کو نیا ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے افسر سید خرم علی اس سے قبل پنجاب حکومت میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔یہ تبدیلی ایجنسی کے بعض افسروں کے خلاف کرپشن کی شکایات کے تناظر میں کی گئی ہے۔ یہ دونوں احکامات وفا قی کابینہ کی منظوری سے کئے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب یوٹیوبر سعدالرحمن المعروف ’ڈکی بھائی‘ کے خلاف تحقیقات میں این سی سی آئی اے کے متعدد افسران کی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے انکشافات ہوئے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حکومتی انکوائری اور ایف آئی آر میں وقارالدین سید کا نام کسی بھی الزام میں شامل نہیں ہے۔ تاہم انہیں عہدے سے ہٹا کر افسر برائے خصوصی ڈیوٹی (اوایس ڈی) بنا دیا گیا ہے اور انہیں مزید احکامات تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق، سینئر پولیس افسر سید خرم علی کو این سی سی آئی اے کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔سرکاری انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ این سی سی آئی اے لاہور کے متعدد افسران نے یوٹیوبر سعدالرحمن کے خلاف کارروائی کے دوران رشوت وصول کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ یہ رپورٹ ایف آئی اے/ACC لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید زین العابدین کے دستخط سے جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ افسران نے ملزم کے خاندان اور دیگر زیرِ تفتیش افراد سے لاکھوں روپے بٹورے۔تحقیقات کے مطابق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے سعدالرحمن کی اہلیہ عروب جٹائی سے درمیانی افراد کے ذریعے 60 لاکھ روپے وصول کیے تاکہ کیس میں نرمی برتی جائے۔