پنجاب اور اسلام اباد کی تجاوزات ایم اے شام کا تجزیہ
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ملک کے 50 فیصد حصے یعنی پورے پنجاب کو تجاوزات سے پاک کرنے کا نہ صرف تہیہ کر رکھا ہے بلکہ وہ اس پر سختی سے عمل پیرا ہیں انہوں نے نہ صرف گنجان اباد شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں کو بھی خوبصورت سے خوبصورت ترین بنانے کے لیے دن رات ایک کیا ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس ان کے چچا یعنی کہ میاں محمد نواز شریف جو کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم ہیں اور وہ اسی شہر میں رہائش پذیر ہیں جسے دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالخلافہ مانا جاتا ہے مجھے یہ سمجھ نہیں اتی کہ اسلام اباد کو دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالخلافہ کا نام دینے والوں کے پیرامیٹرز کیا ہیں اگر اسلام اباد کو دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارلخلافہ قرار دیے دینے والوں کو اس شہر کی کسی بھی ایک مارکیٹ کا دورہ کروا دیا جاتا تو وہ اسلام اباد کو دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالخلافہ قرار دیے جانے کے بارے میں دو دفعہ نہیں بلکہ ایک سو دو دفعہ سوچتے کہاں ملک کا 50 فیصد حصہ ہے یعنی کہ پنجاب اور کہاں صرف ایک شہر اسلام اباد جسے تجاوزات مافیا نے بدصورت ترین بنا کے رکھ دیا ہے اسلام اباد کی کوئی مارکیٹ کوئی فٹ پاتھ کوئی کار پارکنگ ایسی نہیں ہے جہاں پر تجاوزات نہ ہاں نام نہاد سی ڈی اے کے افسران دکھاوے کے لیے تجاوزات کے خاتمے کے لیے اپریشن تو روزانہ کی بنیاد کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن تجاوزات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اس شہر کی کوئی ایسی مارکیٹ نہیں ہے جن کی دکانوں کے اگے غیر قانونی سٹال قائم نہ کیے گئے ہوں دکانوں کے کرایوں سے زیادہ دکاندار سٹال ہولڈروں سے کرایہ وصول کر رہے ہیں جس کا باقاعدہ ایک مخصوص حصہ سی ڈی اے افسران کو ان کے اہلکاروں کے ذریعے وصول ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ تقریبا 27 کلومیٹر بر محیط وفاقی دارالحکومت اسلام اباد میں تجاوزات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں