ڈمی اخبارات کو اشتہارات کی بھرمار ہزاروں کی تعداد میں یومیہ دیکھے جانے والی ویب سائٹ نظر انداز تھوڑا نہیں پورا سوچیے۔ایم اے شام

پاکستان میں اخبارات کی اشاعت محدود، سیکڑوں روزنامہ اور ہفت روزہ اخبار بند ہو گئے نیوز ریڈنگ 80 فیصد سوشل میڈیا پر منتقل ہو گئی ہے لیکن حکومت کی طرف سے اخبارات کو اشتہارات کے ذریعے نوازنے کا کام پہلے سے ڈبل ہو چکا، اس سے قبل اگر کروڑوں کے اشتہارات تقسیم ہوتے تھے تو اب اربوں روپے دئیے جارہے ہیں.
عصر حاضر میں سوشل میڈیا اور ویب سائٹ کی بدولت سوشل میڈیا صارفین کو پل پل کی خبریں موبل پر موصول ہو رہی ہوتی ہیں، بعض اوقات تو بڑے بڑے میڈیا ہاوسز تک خبر پہنچنے سے قبل ہی یوٹیوب چینلز چلانے والے صحافی خبر بریک کر دیتے ہیں.
اخبارات میں 90 فیصد وہ مواد چھپتا ہے جس کی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا دن بھر جگالی کر چکا ہوتا ہے، اسی وجہ سے دنیا بھر میں پرنٹ میڈیا انحطاط کی جانب گامزن ہے لیکن پاکستان میں جن مالکان کے ٹی وی چینلز کے ساتھ اخبارات بھی ہیں ان کی چاندی ہے.
پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں اخباری صنعت کو دھچکا پہنچا ہے اس کے باعث دنیا کے صدیوں سے چلتے ہوئے اخبار اچانک بند ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز پاکستان میں ہمیشہ سے الٹی گنگاہی بہتی چلی ائی ہے.
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اخبارات کی ریڈنگ کم ہونے کے باوجود موجودہ حکومت ایک ہزار سے زائد ڈمی اخبارات کو سالانہ اربوں روپے کے سرکاری اشتہارات کی مد میں سرکاری خزانے کو بدستور نقصان پہنچانے میں مصروف ہے.
ماضی میں لاکھوں کی تعداد میں چھپنے والے اخبارات جو کہ محض اب چند ہزار تک آ چکے ہیں، انہیں آج بھی نہ صرف پرانے ریٹس پر اشتہارات دیے جا رہے ہیں بلکہ ماضی کی طرح اسی تواتر سے ہی روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کے اشتہارات کی بندر بانٹ کی جا رہی ہے.
بعض ٹی وی چینل کی چھتری تلے شائع ہونے والے اخبارات کو محض اس لیے روزانہ بڑے بڑے اشتہارات دیے جا رہے ہیں کہ ان کی ٹی وی چینل کے منہ بند رہیں.
اسی آڑ میں 90 سے 95 فیصد ڈمی اخبارات جو کہ محض اشتہارات کے دن ہی پرنٹ کروائے جاتے ہیں تاکہ ضروری فائلوں میں کاپیاں لگوا کر اشتہارات کے بل وصول کیے جا سکیں انہیں بھی تواتر سے اشتہارات دیے جا رہے ہیں جو کہ پاکستانی عوام سے دشمنی کے مترادف ہے.
وطن عزیز میں کنٹرولڈ میڈیا کو حکومت مخالف یا سرکاری پالیسز کے خلاف خبریں شائع یا نشر کرنے پر غیر اعلانیہ قدغن ہے اور پھر ان مالکان کو صلہ میں ڈمی اخبارات کے بھی مہنگے ترین نرخوں پر اشتہارات دے دئیے جاتے ہیں، سرکاری آڈٹ کے پاس کچھ اور اور اگر پرنٹنگ پریس کے فگر کچھ اور ہوتے ہیں.