ایک عورت/ ایک کہانی، سی سی ڈی کو تفتیش کرنی چاہیے

لاہور کے علاقے شاہدرہ میں درندہ استاد حوا کی بیٹی کو دوستوں کے ساتھ مل کر نوچتا رہا
فرحین نامی لڑکی جب کمپیوٹر کلاسز لینے جاتی تھی تو اس وقت سرمد نعیم نامی استاد نے اسے شادی کا جھانسہ دیا، کمپیوٹر کلاسز دینے کے لیے اپنی دکان پر لیجاتا، وہاں پر فرحین کیساتھ وہ سب کچھ کیا جاتا جو یہاں پر لکھنا بھی مناسب نہیں سمجھ رہا، فرحین کا مستقبل تباہ ہوگیا، گھر والوں کو جب علم ہوا کہ انکی بیٹی کیساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے تو انہوں نے فرحین کی پڑھائی ختم کروائی اور شادی کروا دی،گھریلو مسائل اور مالی پریشانی کی وجہ سے (یا شاید بُری قسمت) شادی کے 5سے 6سال بعد وہی آدمی (سرمد نعیم ) دوبارہ فرحین کی زندگی میں آیا، ملاقاتوں کا سلسلہ ایک بار پھر چل نکلا، اس بار وہ شخص نہ صرف فرحین کا خود استعمال کرتا ہے بلکہ اسکے ساتھ 14سے 15افراد شامل ہوتے، اسکی ویڈیوز بنائی جاتی ہے اور اسے نشے پر لگا دیاگیا، جب ان لوگوں کا فرحین سے دل بھر گیا تومطالبہ کیا گیا کہ اب اپنی13سالہ بیٹی کو بھی ہمارے سامنے پیش کرو، بیٹی کی بات آتے ہی فرحین نے انکار کر دیا ، فرحین کی شادی 15سال قبل ہوئی تھی، اب فرحین کو اسکا شوہر سنبھال رہا ہے اور وہی اسکا علاج کروا رہا ہے، لیکن فرحین نے ہمت کر کے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹری ویو میں یہ سب کچھ بتایا ہے، خدارا اپنی اولاد پر بھی نظر رکھیں اور معاشرے میں گھومنے والے ایسے درندے پر بھی نظررکھیں!