باولے کتے کے کاٹنے سے نوجوان کی حالت غیر

لاہور (کرائم رپورٹر )چوہنگ کا 27 سالہ جوان، حامد بن اسلم، کئی دنوں سے الخدمت کے سیلاب متاثرین کے کیمپ میں خدمتِ خلق سرانجام دے رہا تھا مگر انسانوں کے غم بانٹنے والا یہ نوجوان خود ایک ہولناک امتحان سے دوچار ہوگیا۔ متاثرہ علاقے میں کھانا تقسیم کرتے ہوئے اسے ایک باؤلے کتے نے کاٹ لیا۔ چند دن پہلے جب اس میں ریبیز (Rabies) کی علامات ظاہر ہوئیں تو اسے فوری طور پر میو ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس کیس نے توجہ حاصل کی۔ خبر آئی کہ حامد کی حالت میں عارضی بہتری آئی ہے، وہ کھانے پینے اور بات کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں امید جاگی کہ شاید وہ صحت یاب ہوجائے مگر آج اس کی طبیعت یکایک بگڑ گئی اور اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا۔ دراصل ریبیز میں ہونے والی یہ وقتی بہتری محض دھوکہ ہوتی ہے۔ جیسے ہی یہ وائرس دماغ پر حملہ آور ہو تو پھر دنیا بھر کی کوئی دوا، کوئی ویکسین، کوئی ڈاکٹر یا ہسپتال انسان کو موت کی اس گرفت سے آزاد نہیں کر سکتا۔

طبی سائنس کے مطابق، ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً صفر (0–1%) رہ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں