نیشنلل بک فاؤنڈیشن میں کیا ہو رہا ہے۔ ناصر بشیر کی تحریر

نیشنل بک فاونڈیشن میں کیا ہو رہا ہے؟
انتباہ■اسلام آباد کی ادبی تقریبات،کانفرنسوں اور مشاعروں میں جانے اور قومی اعزازات کے خواہش مند خواتین و حضرات اس پوسٹ سے دور رہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکادمی ادبیات ہو یا نیشنل بک فاونڈیشن جب بھی اس کا سربراہ بدلتا ہے تو کچھ لوگ اس کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں اور اسے اپنی انگلیوں پر نچاتے اور مفادات اٹھاتے ہیں۔نیشنل بک فاونڈیشن کے نئے ایم۔ڈی ڈاکٹر کامران جہانگیر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نیشنل بک فاونڈیشن اسلام آباد کے لاہور آفس میں منعقدہ مشاعرے میں شرکت کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ کچھ مشاعروں میں شرکت سے معذرت کر لینا ہی اچھا ہوتا ہے۔اناڑی کے ہاتھ میں داڑھی دینے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ ناظم مشاعرہ نے دوست نوازی کرتے ہوئے غلط سلط ترتیب بنائی۔اگر لاہور میں مشاعرے اور دیگر تقریبات کرنی ہی ہیں تو کیا لاہور کے ادیبوں سے اہتمام و انتظام اور مشاورت کی خدمت نہیں لی جا سکتی؟مقامی ادیب اور شاعر مقامی سیاست اور اونچ نیچ سمجھتے ہیں۔اسلام آباد سے آنے والے لوگ اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لیے سو طرح کے جتن کرتے ہیں۔نیشنل بک فاونڈیشن کے ایم۔ڈی صاحب ، سیکرٹری صاحب اور کچھ دیگر افسروں کا ٹی۔اے ، ڈی۔اے خوب بنا ہو گا جب کہ مدعو کیے گئے شاعروں کو اعزازیہ تک نہیں دیا گیا۔میں نے اور جواز جعفری نے شاعروں کی غلط ترتیب دیکھ کر احتجاجا” این۔بی۔ایف کا مشاعرہ تو نہیں پڑھا لیکن پورا مشاعرہ بطور سامع سنا اور شاعروں کو داد بھی دی۔اب سنا ہے کہ سرکاری وسائل ضائع کرنے کے لیے یہ سب کراچی جانے والے ہیں اور خبر یہ ہے کہ ایم۔ڈی صاحب اور سیکرٹری صاحب ہر ماہ اپنے لاولشکر کے ساتھ لاہور اور کراچی کا دورہ کیا کریں گے۔یعنی 12 دورے لاہور کے اور 12 کراچی کے۔آپ خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ ان کے یہ دورے کتنے مہنگے پڑیں گے اور مقامی ادیبوں کو صرف چائے بسکٹ ملیں گے۔حتی کہ کمپئرنگ کے لیے بھی ایک منظور نظر خاتون افسر کو اسلام آباد سے لاہور اور کراچی بلوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سنا ہے کہ یہ خاتون 11 ویں گریڈ میں اسسٹنٹ تھیں لیکن انھیں ہنگامی طور پر 17 واں گریڈ پلیٹ میں رکھ کر عطا کیا گیا ہے۔ان محترمہ کو نوازنے کے لیے نعتیہ مشاعرے کے دعوت نامے پر درج کیا گیا کہ نقابت وہ فرمائیں گی اور نظامت جناب سلمان باسط کریں گے۔ ہماری سمجھ میں تو یہ بات ابھی تک نہیں آ سکی کہ نقابت اور نظامت میں کیا فرق ہوتا ہے؟ سلمان باسط صاحب کا نام ہی نظامت کے لیے کافی تھا۔لیکن شاید این۔بی۔ایف کے بڑے صاحب نقابت کرنے والی محترمہ کی زبان سے اپنا نام نامی سننے کے آرزومند تھے۔
سوال یہ ہے کہ اگر لاہور اور کراچی میں تقریبات کرنی ہی ہیں تو این۔بی۔ایف کے مقامی آفس کی انتظامیہ کو بجٹ کیوں نہیں دے دیا جاتا تاکہ وہ خود ہی ہر ماہ تقریبات کر لیا کریں۔ایم۔ڈی صاحب اور سیکرٹری صاحب کا لاہور کراچی کی ہر تقریب میں شرکت کرنا اتنا ناگزیر تو نہیں۔جو کام ان کے کرنے کا ہے،وہ کیوں نہیں کرتے؟ ریڈرز کلب بحال کریں۔کتابوں پر سبسڈی دوبارہ دلوائیں۔کتابوں کی قیمتیں کم کریں۔کتاب میلے کروائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناصر بشیر