گولی لگنے سے دو افراد زخمی  کورال پولیس ملزم سے مل گئ جعلی صلح بے نقاب

اسلام آباد(شبیرسہام سے)
اسلام آباد کے تھانہ کورال کی حدود گلبرگ سٹاپ پر نجی سیکیورٹی کمپنی “ایم ایس سیکیورٹی” کے گارڈ سے اچانک گولی چل گئی۔ گولی کے چھرے لگنے سے دو نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مبینہ طور پر ملزم پارٹی سے سازباز کرکے زخمی نوجوانوں سے سادہ کاغذ پر دستخط لئے اور خود سے راضی نامہ کی تحریر تیار کرکے معاملہ ہی ٹھپ کر دیا۔ تاہم پولیس نے انتہائی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے اپنے سئنیر پولیس افسران کو کاغذی کارروائی دکھانے کے لئے سیکیورٹی کمپنی کے تین ملازمین کے خلاف صرف ناجائز اسلحہ برآمدگی کا مقدمہ درج کیا جبکہ فائر اور زخمی ہونے والا قصہ ہی گول کر دیا۔ متاثرہ شہری نے پولیس حکام سے نوٹس لینے اور زمہ دار سیکیورٹی گارڈز اور کمپنی مالکان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ علی پور فراش اسلام آباد کے رہائشی نوجوان انوار عباسی نے اپنے نابینا بزرگ والد امتیاز عباسی کے ہمراہ بتایا کہ میں سامان لوڈنگ کا کام کرتا ہے۔ یکم ستمبر کی رات تین بجے امتیاز مال گلبرگ سٹاپ پر سوزوکی سے سامان اتار رہا تھا کہ اسی دوران امتیاز مال پر تعینات ایم ایس سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ سے گولی چل گئی اور چھرے لگنے سے مجھ سمیت دو ملازمین شدید زخمی ہوگئے اور لہو لہان ہوگئے۔ بعد ازاں ہمیں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جہاں تھانہ کورال میں تعینات اے ایس آئی مختیار قصوری آیا اور ایک کاغذ پر مجھ سے دستخط لئے اور چلا گیا۔ میں یہ سمجھا کہ پولیس فائر کرنے والے گارڈز کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی لیکن واقعہ کے تیسرے روز تین ستمبر کی رات کو جب میں اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ تھانہ کورال گیا اور ملزمان کے خلاف کی گئی قانونی کارروائی کا پتہ کیا تو ہم یہ جان کر حیران رہ گئے کہ پولیس نے اپنی طرف سے ایک تحریر تیار کر رکھی تھی جس پر ہمارے دستخط موجود تھے اور ہماری طرف سے اس کاغذ کے ٹکڑے پر قانونی کارروائی نہ کرنے اور صلح کرنے کی عبارت موجود تھی۔ زخمی نوجوان انوار عباسی کا کہنا ہے کہ نہ تو میں نے پولیس سے صلح کی کوئی بات کی ہے اور نہ ہی کچھ لکھ کر دیا ہے۔ اے ایس آئی مختیار قصوری میرے پاس ہسپتال آیا تھا اور کچھ بھی بتائے بغیر سادہ کاغذ پر دستخط لے گیا اور آج ہمیں پتہ چلا کہ پولیس نے اپنی طرف سے راضی نامہ تیار کرکے دستخط لئے ہیں۔ متاثرہ نوجوان کے بزرگ نابینا والد امتیاز عباسی کا کہنا تھاکہ پولیس ملزم پارٹی کے ساتھ مل گئی ہے۔ ہم صلح کے لئے بالکل تیار نہیں اور نہ ہی ہم نے صلح نامہ لکھ کر دیا ہے۔ پولیس حکام نوٹس لیں اور ہمیں انصاف لائیں۔ تاہم جب اے ایس آئی مختیار قصوری سے اس حوالے سے ان کا موقف لیا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور بار بار یہی دھراتے رہے کہ فریقین میں راضی نامہ پر قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں