موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں ۔حنیف صابر کا کالم

نقش جاوداں: حنیف صابر
پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے اپنے 26 اگست کے اجلاس میں پارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلے کیے ہیں جو پارٹی کے تابوت میں آخری تو نہیں مگر اہم کیل ثابت ہوسکتے ہیں۔ ذیل میں وہ پریس ریلز ہے جوپی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیج سے کاپی کیا گیا ہے۔

”پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی کا اعلامیہ
مورخہ 26-08-2025
پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی اپنے اعلامیے میں عمران خان صاحب کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ عمران خان نے سیاسی کمیٹی پہ اپنا مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے پارٹی کے سیاسی معاملات کو مزید مشاورت کے لیے سیاسی کمیٹی کے حوالے کیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاسی کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹرائل کی روزانہ سماعت مقرر کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ روزانہ سماعت سے ملزمان کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے۔
سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن حلقوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکینِ اسمبلی کو نو مئی کے مقدمات میں سزاﺅں کے بعد نااہل کیا گیا ہے، پارٹی ان تمام اراکین کو اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتی ہے اور ان حلقوں میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات کا احتجاجاً بائیکاٹ کرتی ہے۔ سیاسی کمیٹی ان تمام اراکین کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو عدالتوں سے ناحق سزائیں پانے کے بعد بھی عمران خان کے نظریے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوئے ہیں۔ البتہ لاہور NA-129 میں میاں اظہر کی وفات کے بعد خالی ہونے والی سیٹ پر انتخاب میں حصہ لیا جائے گا۔
سیاسی کمیٹی عمران خان کی ہدایات کے مطابق متفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی، دیگر اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چئیرمین شپ اور رکنیت سے فی الفور استعفوں کا اعلان کرتی ہے۔“

بطور تجزیہ کار، ان فیصلوں کو پڑھ کر کہیں سے نہیں لگتا کہ یہ کسی سیاسی کمیٹی کے فیصلے ہیں۔ اوراگر یہ سیاسی کمیٹی کے ہی فیصلے ہیں تو پھر یہ سیاسی کمیٹی غیر سیاسی ذہن رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ اپنی 36 سالہ صحافتی زندگی کی آنکھ سے دیکھتا ہوں تو میری نظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کا سب سے غیر دانشمندانہ فیصلہ 1985 کے غیر جماعتی عام انتخابات کا بائیکاٹ تھا۔ انتخابات غیر جماعتی تھے تو امیدواروں کو صرف جماعت کا نام اور نشان استعمال کیے بغیر ہی تو انتخابی دنگل میں اترنا تھا۔ امیدوار پارٹی کا نام اور نشان استعمال کئے بغیر کسی ڈھول، باجے، جیپ، کار، پھول، تیتر، بٹیر کے نشان پر الیکشن لڑتے تو میدان غیر سیاسی بیک گراﺅنڈ والے تاجروں، ٹھیکیداروں اور مافیاز کے لیڈروں اور کارندوں کے لیے تو خالی نہ ہوتا۔

غیر سیاسی بیک گراﺅنڈ والے جو لوگ غیر جماعتی الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچے وہ اور ان کی اولادیں آج تک ایوانوں میں موجود ہیں اور وہ خاندان حکومتی نظام پر چھائے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی، جس نے میدان خالی چھوڑ دیا تھا، آج تین صوبوں میں اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور صوبہ سندھ میں وہ سندھ کارڈ کے بل پر زندہ ہے۔ رہی بات اقتدار میں آنے کی تو اسے ہر دور میں غیر سیاسی و غیر جمہوری قوتوں اور ان کے کارندوں کی حمایت کی ضرورت پیش آئی۔ فی الحال یہ اس تحریر کا موضوع نہیں اس لئے اس پر بات بھر کبھی سہی۔

دوسری مرتبہ سیاسی پارٹیوں کی سطح پر انتخابی عمل کا بائیکاٹ 2008 میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے کیا، یا یوں کہیے کہ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے آﺅٹ کرنے کی اسائنمنٹ پوری کی۔ اس کے بعد سے جماعت اسلامی اب تک سیاسی میدان میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف انتخابی عمل میں واپس تو آ گئی مگر اس کی واپسی سمجھوتہ ایکسپریس پر ہوئی۔ سہارے کا سفر انہیں اقتدار میں تو لے آیا مگر جب سہارا دینے والی لاٹھی کسی اور نے تھام لی تو پی ٹی آئی دھڑام سے نیچے آگری۔

پاکستان تحریک انصاف دو مرتبہ اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن استعمال کر چکی اور دونوں بار اسے اس غیر سیاسی و غیر جمہوری فیصلے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 2014 میں پی ٹی آئی نے عام انتخابات 2013 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے طور پر “آزادی مارچ” کیا۔ اس دوران پارٹی نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج اور بائیکاٹ کرنے کی پالیسی اپنائی۔ تاہم، یہ استعفے قبولنہیں کئے گئے اور کچھ اراکین بعد میں پارلیمنٹ میں واپس آگئے۔

اپریل 2022 میں، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ کیا۔ 11 اپریل 2022 کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے 123 اراکین کے استعفے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے منظور کیے، جن میں 94 منتخب نمائندے، 25 مخصوص نشستیں، اور 4 اقلیتی سیٹیں شامل تھیں۔ تاہم، 32 اراکین نے استعفے نہیں دیے، جن میں سے 28 منتخب، 3 مخصوص نشستیں، اور ایک اقلیتی نمائندہ تھا۔ 2022 میں، پی ٹی آئی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومتیں خود ہی تحلیل کر دیں۔ اس کا مقصد سیاسی دباو¿ ڈالنا اور نئے انتخابات کے لیے راہ ہموار کرنا تھا مگر پارٹی اس فیصلے کے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔

اس تجربے کے بعد اگر پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر وہی بائیکاٹ اور استعفوں والا آپشن استعمال کرتی ہے تو اسے قطعاً دانشمندانہ سیاسی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے تو سیاسی کمیٹی کے فیصلوں کا پریس ریلیز ایک بار پھر پڑھ لیں مجھے تو یہ کہیں سے بھی سیاسی اور جمہوری فیصلہ نہیں لگتا بلکہ حیرت ہوئی ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو سیاسی لیڈر کہتے ہیں اور ایک بڑی سیاسی پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے ارکان ہیں وہ اس حد تک کوتاہ نظر ہو سکتے ہیں کہ انہیں ملکی سیاسی تاریخ یاد ہو یا نہ ہو، ان کی نظر ان کی اپنی پارٹی کی سیاسی تاریخ پر بھی نہیں ہے۔

بقول علامہ اقبال
موج ہے دریا میں، بیرون دریا کچھ نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں