کالا باغ ڈیم کا متبادل سواں ڈیم

اسلام اباد(خصوصی رپورٹ)کالا باغ ڈیم سے 40 کلومیٹر مشرق میں کالاباغ سے 8 گنا بڑی سٹوریج ممکن ہے جسے سواں ڈیم کہا جاتا ہے اس ایک ڈیم کے بنانے سے ملک کو اگلے ہزاروں سال تک کسی اور سٹوریج ڈیم کی ضرورت نہیں پڑے گی یہ سندھ سوات کابل کے بڑے سے بڑے سیلابوں کو تقسیم کر کے کنٹرول اور سٹورکرے گا۔ تربیلا سے پاکستان کا آدھا پانی گزرتا ہے، سوات کابل اور سندھ میں اکٹھا سیلاب آئے تو پشاور کی وادی ڈوب جاتی ہے لیکن سواں ڈیم ہو تو تربیلا کا فلو ضائع کیے بغیر مہینوں تک موڑا یا بائی پاس کیا جا سکتا ہے اس سے پشاور کی وادی ہمیشہ کےlیے سیلابوں سے محفوظ ہو جائے گی۔
تربیلہ ڈیم بننے سے دریائے سندھ کی سلٹ کے بہاؤ میں بہت بڑی رکاوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے زیریں سندھ کا علاقہ برباد ہو رہا ہے۔ ڈیلٹا میں پانی پھینکنے کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے لیکن اصل ضرورت تربیلہ کی سلٹ کو ریلیز کر کر نیچے بھیجنے کی ہے جسکے ساتھ جتنا چاھیں پانی آ جائے گا۔ اگر کالا باغ ڈیم بنایا جائے تو کابل اور سوات کی سلٹ بھی بند ہو جائے گی اور تربیلہ کی سلٹ نکالنا بھی ممکن نہیں رہے گا اس لیے سندھ کو بھی خوش کرنا ہے تو کالا باغ کی جگہ “سواں ڈیم” منصوبے کے ہاتھ مضبوط کریں اس میں سندھ کی بھی زندگی ہے کیونکہ اسکی لنک چینل تربیلا کی اگلی پچھلی سلٹ نکالے گی۔ یہ سندھ کے بڑے سے بڑے سیلاب روکے گا، سندھ کو پورا سال پانی بھی دے گا، دریائے سندھ کو رواں بھی رکھے گا، ڈیلٹا کو سلٹ بھی دے گا، ماحولیات کو بچائے گا، جنگلی حیات اور نباتات کو بچائے گا، پینے کے پانی کا معیار بہتر کرے گا پانی کی دستیابی کو ہمیشہ کےلیے ٹھیک کردے گا اور صوبے جو پانی کی کمی پر لڑ رہے ہوتے ہیں اس جھگڑے کی جڑ کاٹ دے گا۔
سواں ڈیم کالا باغ سے بہت بڑا ہے اس لیے کیری اوور سٹوریج کے رول کو صرف “سواں ڈیم” ہینڈل کر سکتا ہے اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آپ سیلاب کے دنوں میں چار پانچ تربیلوں جتنا پانی بچا لیں پھر آپ کے پاس سردیوں اور گرمیوں میں اگلے جولائی تک پانی کی ریل پیل ہوگی اور اپ ایک دوسرے کا سر پھاڑنے اور ملک توڑنے کی دھمکیاں دینے سے باز آ جائیں گے۔ 1991 کے معاہدے میں سیلابے کی تقسیم کا فارمولا بھی دیا گیا تھا لیکن سیلاب کو جمع کرنے کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔ صوبےاپنے حصے کا سیلاب دریاؤں کی ماحولیات کو بہتر کرنے کےلیے استعمال کریں تو آخر میں سارا پانی گھوم گھما کے سندھ میں ہی پہنچے گا انڈس ڈیلٹا اور گرین انڈس کےلیے چندے کھانے والے دانشور اگر سادہ حساب سمجھ لیں تو ان کا مقصد سواں سٹوریج کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ دریا ہو یا ڈیلٹا، دونوں کو تازہ پانی اور صحت بخش سیلٹ چاہیے جو سواں ڈیم کے بغیر نا ممکن ہے۔ چھ کینال ہوں یا دس کینال سٹوریج بنائے بغیر خیالی پلاؤ ہیں۔ زراعت اور پانی کے علاوہ سواں ڈیم کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ چناب، جہلم اور انڈس پر بھارتی منصوبوں کا شافعی توڑ ہے بلکہ اس کی مدد سے ہم بھارتی منصوبوں کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارت سندھو پر جتنی چاہے سٹوریج بنا لے اس کا فائدہ ہمیں ہی ہوگا اگر ہم صرف نیچے سواں سٹوریج بنا لیں وہ ایسے کہ لداخ میں سٹوریج تو گلیشیئر کی طرح بے ضرر رہے گی اور انڈیا اس پانی کو کہیں موڑ بھی نہیں سکتا لیکن وہ پانی اگلی گرمیوں سے پہلے ریلیز کرنا ہی ہوگا کیونکہ گرمیوں میں اتنا ہی پانی مزید آجائے گا لیکن لداخ کا پانی جب کنٹرول طریقے سے آئے گا تو ہماری انڈس کیسکیڈ کی پیداوار مفت میں دگنی ہو جائے گی جو کہ پاکستان کی موجودہ ضرورت سے تین گنا ہے اور اس کی فی یونٹ کاسٹ چند پیسے ہوگی ۔ اسے بیک اپ کرنے کیلئے (کھرمنگ کھپلو لنک ہو تو بھارت بے بس ہوجائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں