مصطفی کمال نے بتادیا کہ میں فارم 47 کی پیدہ وار ہوں

اسلام أباد(خصوصی رپورٹ)مصطفیٰ کمال، جو اس وقت وفاقی وزیر صحت ہیں اور کراچی سے تعلق رکھتے ہیں، ایک اسپتال کے دورے پر گئے۔ وہاں مریضوں کے لواحقین نے جائز شکایات کیں کہ دوائیں نہیں ملتیں، عملے کا رویہ خراب ہے، اور وزیر صاحب اسپتالوں پر توجہ نہیں دیتے۔ لیکن مسائل حل کرنے یا تسلی دینے کے بجائے موصوف نے بدتمیزی کی انتہا کر دی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ بدتہذیبی انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دکھائی۔ خواتین سے بات کرنے کا یہ غیر شائستہ اور ہتک آمیز انداز ایک عوامی نمائندے کو بالکل زیب نہیں دیتا۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی پستی کی علامت ہے بلکہ لیڈرشپ کے معیار پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر یہی ان کا انداز گفتگو ہے تو پھر عوام کے مسائل حل کرنے کی امید محض خواب ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں