فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سہیل وڑائچ کا انٹرویو۔سب خواب تھا ۔ایم اے شام کا دلچسپ تجزیہ

سہیل وڑائچ ایک انتہائی دھیمے مزاج کے نامور صحافی ہیں اور ملک کے ایک بڑے میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں بڑا میڈیا گروپ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کللم میں جب بھی کوئی انکشاف کرتے ہیں تو ان کا میڈیا گروپ اپنے تمام اخبارات اور ٹی وی چینل میں ان کی کہی ہوئی بات کو اس طرح سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے کہ مجبورا دوسرے اخبارات اور دیگر میڈیا چینل کو بھی وہی خبر چلانا ان کی مجبوری بن جاتی ہے اور جب ایک ہی بات ایک ہی خبر تمام اخبارات تمام میڈیا چینل پر نشر ہونا شروع ہو جائے تو ملک میں ایک کہران سمجھ جاتا ہے جو باتیں سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں کی ہیں وہی باتیں اگر کوئی ایک عام صحافی ثبوتوں کے ساتھ بھی اپنے کالم یا اپنی خبر میں ذکر کر دیتا تو اس قدر شور بپا نہیں ہونا تھا لیکن جس طرح سے ڈائریکٹر جنرل ائی ایس پی ار جو کہ فوج پاکستان کے ترجمان ہیں نے ان کے کالم اور تمام باتوں کی جس طرح سے سختی سے تردید کی ہے سہیل وڑائچ کی 40 سالہ صحافت پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے اور پھر یہی نہیں برسلز میں ہونے والی تقریب کے روح رواں نے بھی جس طرح میڈیا پہ ا کر ڈی جی ائی ایس پی ار کی تردید کی تائید کی ہے اس نے سہیل وڑائچ کو مزید شرمندہ کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سہیل وڑائچ اور ان کے بڑےمیڈیا گروپ نے بھی چپ سادھ لی ہے مجھے تو لگتا ہے کہ سہیل وڑیچ کافی عرصے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے انٹرویو کے لیے جس طرح دن رات سوچ رہے تھے اور بہت سی کوششیں بھی کر رہے تھے جس کا ذکر انہوں نے اپنے کالم میں بھی کیا ہے ہ انہوں نے موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت متعدد شخصیات سے رابطہ کر کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انٹرویو کیلئے تگ و دو کی عام خیال یہ ہے کہ انسان جو بھی دن رات سوچتا ہے اور جب رات کو گہری نیند سوتا ہے اور وہی باتیں اسے خواب کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں میرا تو خیال یہ ہے کہ سہیل وڑائچ نے جنرل عاصم منیر کے انٹرویو سے متعلق ایک خواب دیکھا ہے اور وہی باتیں انہوں نے اپنے کالم میں بھی کر دیں جو ان کے ذہن میں تھی بس اخر میں یہ لکھنا بھول گئے تھے کہ۔ یہ سب خواب تھا