سویٹ ہوم کے بچوں کو چوری کے بکروں کا گوشت کھلائے جانے کا انکشاف

اسلام آباد(شبیرسہام سے)
سی ڈی اے کے ملازم آفتاب مغل کی جانب سے شہری کی بکریاں چرا کر پاکستان سویٹ ہوم کے ملازم کو آدھی قیمت پر فروخت کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ چار میں سے دو بکریاں مالک کو واپس مل گئیں جبکہ دو بکرے پاکستان سویٹ ہوم میں ذبح کر دی گئیں۔ بکری چوری کی اس انوکھی اور شرمناک واقعہ میں پاکستان سویٹ ہوم کا ملازم بھی مبینہ طور پر ملوث نکلا۔ پولیس تھانہ بنی گالہ نے ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے متاثرہ شہری پر راضی نامہ کرنے کے لئے زور دینا شروع کر دیا ہے۔ اس امر کا انکشاف اس وقت جب چوری ہونے والی بکریوں کے مالک زین کیانی نے تھانہ بنی گالہ کو تحریری درخواست دیتے ہوئے زمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس کو دی گئی درخواست میں موضع رہاڑہ اسلام آباد کے رہائشی زین کیانی نے موقف اختیار کیا ہے کہ میں نے مال مویشی رکھے ہوئے ہیں۔ 19 اگست کو دن ایک بجے کے قریب میری چار بکریاں اور دو بکرے گھر کے قریب کھیتوں میں موجود تھیں۔ تقریباً دن ڈیڑھ بجے بکریاں غائب تھیں۔ بکریوں کی تلاش کے دوران پتہ چلا کہ سی ڈی اے کے اہلکار گاڑی میں ڈال کر لے گئے ہیں۔ سی ڈی اے آفس سے پتہ چلا کہ سی ڈی اے کا ملازم آفتاب مغل گاڑی میں ڈال کر لایا تھا۔ جب ہم نے آفتاب مغل سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ میں نے یہ کارروائی میڈم انعم فاطمہ کے کہنے پر کی ہے۔ ہم معلومات کرتے کرتے ایچ نائن میں واقع یتیموں کا تعلیمی ادارہ پاکستان سویٹ ہوم پہنچے تو وہاں کے ملازم بابر نامی شخص نے بتایاکہ دونوں بکرے ذبح ہوچکے ہیں اور چار بکریوں کی رسید بنواکر آفتاب مغل لے گیا ہے۔ پاکستان سویٹ ہوم نے مجھے دوبارہ آفتاب مغل سے رابطہ کرنے کا کہا۔ جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے دو بکریاں واپس کر دیں اور کہاکہ آپ کے دو بکرے ذبح ہوچکے ہیں اور تعلیمی ادارے کے بچوں کو کھلائی جاچکی ہیں۔ متاثرہ شہری کا مزید کہنا ہے کہ پہلے بھی ہمارے علاقے سے بہت سے بکرے چوری ہوچکے ہیں۔ تمام چوری شدہ بکرے اور بکریاں سی ڈی اے ملازم آفتاب مغل نے پاکستان سویٹ ہوم کے ملازم بابر کو آدھی قیمت پر فروخت کی ہیں۔ جتنی بھی بکریاں چوری ہوئی ہیں اس میں آفتاب مغل اور پاکستان سویٹ ہوم کے ملازم بابر براہ راست ملوث ہیں۔ جن کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ ہماری چیئرمین سی ڈی اے سے بھی اپیل ہے کہ وہ نوٹس لیں اور اپنے اہلکاروں کو لگام ڈالیں۔ غریب عوام کا نقصان نہ کریں اور صدقہ خیرات اگر دینا ہے تو اپنی تنخواہ سے دیں چوری کر کے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ پولیس نے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی بجائے دونوں پارٹیوں کو راضی نامہ کرنے کے لئے دو دن کا وقت دے دیا ہے۔ جس کے بعد بکری چوری کی اس واردات پر مٹی ڈال دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں