اپنی نو مولود بیٹی اپنی گرل فرینڈ کو دینے والا باپ اور اس کی گرل فرینڈ گرفتار بچی برامد
اسلام آباد(کرائم رپورٹر )
تھانہ کھنہ کی حدود بلال ٹاؤن میں ایک روزہ نومولود بچی کے اغوا کا معمہ پولیس نے نہایت محنت اور تفتیشی حکمتِ عملی کے بعد حل کر لیا۔
18 اگست 2025 کو رات 2 بجے پولیس کو بذریعہ ریسکیو اطلاع ملی کہ بلال ٹاؤن سے ایک دن کی بچی اغوا ہو گئی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا۔ اردگرد کے تمام کیمروں کی فوٹیجز چیک کی گئیں اور جس ہسپتال میں بچی کی پیدائش ہوئی تھی وہاں کی دائیہ، نرس اور ڈاکٹر کو شاملِ تفتیش کیا گیا۔ اسی طرح خاندان کے تمام افراد کے موبائل فون ریکارڈ بھی پولیس نے قبضے میں لے کر ٹیکنیکل ٹیم کی مدد سے ڈیٹا حاصل کیا۔
بچی کے والد ابراہیم اور دیگر قریبی رشتہ داروں سے بار بار پوچھ گچھ کی گئی۔ دوران تفتیش پولیس کو ابراہیم کے موبائل سے کچھ ڈیلیٹ شدہ پیغامات ملے جنہوں نے معاملہ مزید مشکوک بنا دیا۔ ایک نامعلوم نمبر سے ابراہیم کو “اللہ حافظ، بائے بائے” کا پیغام موصول ہوا تھا جس کی ٹریسنگ پر پولیس کو اہم شواہد ملے۔
مزید تفتیش پر نومولود بچی کے والد ابراہیم نے اعترافِ جرم کیا کہ اس نے اپنی بچی اپنی ایک خاتون دوست شازیہ اور اس کی بانجھ بیٹی اقراء کو دی۔ اقراء نے اپنے خاندان کو یہ ڈرامہ رچایا تھا کہ وہ امید سے ہے اور نو مہینے تک جعلی پیٹ باندھ کر سب کو دھوکہ دیتی رہی۔ بچی کی پیدائش کے بعد، شازیہ اور اقراء رات کے وقت ابراہیم کے گھر کے باہر آئیں جہاں ابراہیم نے نومولود بیٹی ان کے حوالے کر دی۔ بعد ازاں ابراہیم نے خود بھی ڈرامہ رچایا کہ بچی اغوا ہو گئی ہے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ گلیوں میں تلاش کرتا رہا۔
شازیہ نے بھی دورانِ تفتیش تمام حقائق تسلیم کر لیے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیخوپورہ کے علاقے مانا والا میں چھاپہ مار کر بچی کو بازیاب کرا لیا، جبکہ اقراء، اس کے شوہر طیب اور شازیہ کو گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اقراء کے والد کو بھی اس حقیقت کا علم نہیں تھا کہ اس کی بیٹی حاملہ نہیں ہے۔ اس راز سے صرف اقراء، اس کی والدہ شازیہ اور نومولود بچی کا باپ ابراہیم واقف تھے۔ اغوا کی رات ہی اقراء اپنے خاندان کے ساتھ پمز اسپتال پہنچی اور جعلی طور پر بچی کی پیدائش کا ڈرامہ رچایا۔ بچی کو ساتھ لے کر وہ ہسپتال سے باہر آئی اور سب کو یقین دلایا کہ اس نے اپنی اولاد کو جنم دیا ہے۔ بعد ازاں وہ اپنے سسرال شیخوپورہ روانہ ہو گئی۔
۔

