اللہ کی دی ہوئی عزت ہی حقیقی عزت ہے ۔کالم نگار عاصم علی رانا

عاصم علی رانا

عزت: رومیؒ اور شمسؒ کی نگاہ میں

(یہ واقعات صوفیانہ حکایات اور معتبر کتب جیسے مناقب العارفین اور مقالات شمس تبریزیؒ میں مختلف انداز سے بیان ہوئے ہیں۔ ان کا مقصد محض اخلاقی و روحانی سبق دینا ہے، نہ کہ محض تاریخ کا دقیق ریکارڈ۔)

عزت… وہ لفظ جس پر انسان جیتا اور مرتا ہے۔ مگر کیا یہ عزت مخلوق کے ہاتھ میں ہے یا خالق کے پاس؟ مولانا جلال الدین رومیؒ اور ان کے مرشد حضرت شمس تبریزیؒ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ عزت کی حقیقت کیا ہے۔

شراب یا سرکہ؟

ایک رات شمسؒ تبریزی مہمان تھے۔ کھانے کے وقت انہوں نے رومیؒ سے کہا:
“کیا میرے لیے شراب کا انتظام کیا؟”

رومیؒ دم بخود رہ گئے۔ حکمِ مرشد تھا، اطاعت ناگزیر۔ چہرہ چھپایا، چادر اوڑھی اور عیسائی محلے جا پہنچے۔ شراب کا کوزہ خریدا مگر راستے میں لوگوں نے دیکھ لیا۔ شور اٹھا: “یہ تو مولانا رومیؒ ہیں، شراب خرید کر آرہے ہیں!”
کل تک جو ان کے مرید تھے آج طعنے دینے لگے، کنکر مارنے لگے۔ پگڑی خاک آلود ہوئی اور عزت زمین بوس ہوگئی۔

گھر کی دہلیز پر شمسؒ کھڑے تھے۔ ہجوم چیخ رہا تھا: “شراب ہے!” شمسؒ نے کوزہ کھولا۔ اندر شراب نہیں بلکہ سرکہ تھا۔ لوگ حیران رہ گئے، سب نے معافی مانگی۔

شمسؒ نے کہا:
“رومیؒ! یہ عزت جو لوگوں نے تمہیں دی تھی، ایک پل میں کیسے خاک میں مل گئی۔ یاد رکھو، اصل عزت صرف اللہ کے ہاں ہے۔”

درس چھوڑنا – بڑی آزمائش

رومیؒ ایک عظیم مدرس تھے۔ سینکڑوں شاگرد ان کے حلقہ درس میں بیٹھتے تھے۔ یہ علمی منصب شہر کی سب سے بڑی عزت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن شمس تبریزیؒ کی صحبت نصیب ہوئی تو انہوں نے درس دینا چھوڑ دیا۔
لوگوں نے کہا: “یہ کیا کیا؟ عزت اور مقام تو کھو دیا!”
رومیؒ نے جواب دیا:
“میں نے عزتِ خلق کو چھوڑ کر عزتِ خالق کو چن لیا ہے۔ جو شمس نے چند دنوں میں دکھایا ہے، وہ برسوں کی کتابوں میں نہیں تھا۔”

شمسؒ کی غیبت اور رومیؒ کی آزمائش

شمسؒ پر قونیہ کے لوگوں نے الزامات لگائے اور وہ ایک دن اچانک غائب ہوگئے۔ رومیؒ ان کی تلاش میں دمشق تک گئے۔ عوام نے طعنہ دیا کہ “دیکھو، تمہارے مرشد نے تمہیں چھوڑ دیا۔” مگر رومیؒ نے اس فراق کو صبر سے سہہ کر اشعار میں ڈھالا۔ یہی دیوانِ شمس تبریزی اور مثنوی معنوی ہیں جو آج ان کی عزت کو صدیوں تک زندہ کر گئے۔

عوامی بدگمانی اور حقیقت

شمسؒ پر بدگمانیاں کی گئیں۔ کچھ نے کہا: “یہ اجنبی رومیؒ کو گمراہ کر رہا ہے۔”
مگر آج تاریخ بتاتی ہے:
• شمسؒ کو برا کہنے والے تاریخ کی دھول میں گم ہو گئے۔
• رومیؒ اور شمسؒ کا رشتہ دنیا بھر میں عزت اور عشق کا استعارہ ہے۔

عزت کا فریب – چند مثالیں
• امام احمد بن حنبلؒ کو دربار میں کوڑوں سے مارا گیا مگر آج وہ ’’امام اہل السنۃ‘‘ کہلاتے ہیں۔
• حسین بن منصور حلاجؒ کو سنگسار کیا گیا مگر آج ان کا نام عشقِ الٰہی کی پہچان ہے۔
• امام حسینؓ کو کربلا میں تنہا چھوڑ دیا گیا مگر آج ہر زبان ان کی عزت کے ترانے پڑھتی ہے۔
• مولانا رومیؒ کو طعنوں کا سامنا کرنا پڑا مگر آج ان کی مثنوی دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی روحانی کتاب ہے۔

آج کا عکس

آج بھی عزت اور رسوائی لمحوں کا کھیل ہے۔ ایک کلپ، ایک ٹرینڈ اور برسوں کی نیک نامی خاک میں مل جاتی ہے۔ یہی وہ “بدگمانی کی مار” ہے جسے شمسؒ نے رومیؒ کو دکھایا۔

اصل عزت وہی ہے جو اللہ دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ نہ کوئی افواہ اسے مٹا سکتی ہے، نہ کوئی ہجوم۔

انجامِ کلام

رومیؒ اور شمسؒ کا سبق آج بھی تازہ ہے:
عزت انسانوں کے ہجوم کی تالیوں میں نہیں، اللہ کی رضا میں ہے۔
دنیا کی عزت عارضی ہے—آج ہے، کل نہیں۔
اللہ کی دی ہوئی عزت حقیقی ہے—اور وہی ہمیشہ باقی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں